چین اور امریکا کو بدلہ لینے کے خطرناک چکر میں نہیں پڑنا چاہئے، شی جن پنگ کی ٹرمپ سے ملاقات کے بعد گفتگو

0
291

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بوسان میں ملاقات کے بعد کہا ہے کہ چین اور امریکا کو باہمی بدلے اور محاذ آرائی کے ’’خطرناک چکر‘‘ میں نہیں پڑنا چاہیے بلکہ تعاون، استحکام اور مثبت انگیجمنٹ کو ترجیح دینا ہوگی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر شی کا کہنا تھا کہ چین کی معیشت سمندر کی طرح مضبوط اور وسیع ہے، جو ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین کسی ملک کی جگہ لینے یا اسے چیلنج کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اپنی ترقی اور بہتری پر توجہ دیتا ہے۔

صدر شی جن پنگ نے زور دیا کہ گفت و شنید ہمیشہ ٹکراؤ سے بہتر ہوتی ہے، اور چین–امریکا تعلقات میں تجارت و معیشت کو بنیادی ستون بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیموں کو ملاقات کے نکات پر مزید پیش رفت کے لیے فالو اپ کرنا ہوگا تاکہ تعلقات میں اعتماد اور تعاون میں اضافہ ہو۔

چینی صدر کے مطابق دونوں ممالک کی اقتصادی اور تجارتی ٹیموں نے تفصیلی بات چیت میں اہم امور پر اتفاق کیا ہے، جن میں غیر قانونی امیگریشن، ٹیلی کام فراڈ، مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال اور منی لانڈرنگ کے خلاف تعاون شامل ہے۔

سرکاری چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملاقات میں توانائی، تجارت اور رابطوں کے تسلسل پر بھی اتفاق ہوا، جبکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے چین پر عائد ٹیرف میں 10 فیصد کمی کو دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا