اسلام آباد: وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران حکومتی قرضوں میں 10 ہزار ارب روپے سے زائد اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی قرض 84 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آئندہ تین برسوں میں قرض کا جی ڈی پی سے تناسب 70.8 فیصد سے کم ہوکر 60.8 فیصد تک آنے کا امکان ہے جبکہ مالی سال 2026ء سے 2028ء تک قرض پائیدار رہنے کی توقع ہے۔
وزارت خزانہ نے معاشی سست روی، شرح سود اور ایکسچینج ریٹ میں اتار چڑھاؤ کو قرضوں کی پائیداری کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 67.7 فیصد قرضے اندرونی جبکہ 32.3 فیصد بیرونی ہیں، اور 80 فیصد قرض فلوٹنگ ریٹ پر لیا گیا ہے جس سے سود کا خطرہ برقرار ہے۔ وزارت خزانہ نے خبردار کیا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے کا امکان بھی قرض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
دوسری جانب مہنگائی 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد پر آگئی، پالیسی ریٹ میں 1100 بیسس پوائنٹس کمی آئی اور معاشی شرح نمو 2.6 سے بڑھ کر 3 فیصد ہوئی جبکہ آئندہ چند برسوں میں گروتھ 5.7 فیصد تک جانے کا تخمینہ ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق گذشتہ سال وفاقی مالی خسارہ 6.2 فیصد تک محدود رہا اور پرائمری بیلنس 1.6 فیصد سرپلس میں رہا۔






