اسرائیل کی اعلیٰ فوجی قانونی افسر میجر جنرل یفات تومر یروشلمی نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ ملٹری ایڈووکیٹ جنرل کے منصب پر تعینات تھیں اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک ایسی ویڈیو میڈیا کو لیک کرنے کی منظوری دی تھی جس میں اسرائیلی فوجی ایک فلسطینی قیدی پر بہیمانہ تشدد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ویڈیو جنوبی اسرائیل کے سدی تیمن حراستی مرکز کے کیمروں سے ریکارڈ ہوئی تھی اور اگست 2024 میں ٹی وی پر نشر ہوئی، جس کے بعد شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ استعفے میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اس فیصلے کی مکمل ذمہ دار ہیں۔
انسانی حقوق کے ماہرین نے اسے اسرائیلی فوج میں شفافیت اور احتساب کی کمی کی علامت قرار دیا ہے، جبکہ وزیر دفاع نے ان کا استعفیٰ درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ جھوٹے الزامات پھیلانے والا شخص فوج میں رہنے کا اہل نہیں۔ فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ سدی تیمن کیمپ غزہ جنگ کے دوران گرفتار فلسطینیوں کے لیے قائم کیا گیا تھا اور وہاں تشدد، بدسلوکی اور سہولیات نہ دینے کے الزامات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں۔ 2024 میں اسی کیمپ کے فوجیوں پر ایک فلسطینی قیدی پر جنسی اور جسمانی تشدد کے الزامات بھی عائد ہوئے تھے جن میں ایک اہلکار کو سات ماہ قید کی سزا ملی تھی، جبکہ بعض دائیں بازو گروہوں نے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ہیرو قرار دیا تھا۔






