پاکستان ریلوے کے رہائشی کوارٹرز کی جعلی الاٹمنٹ کے معاملے میں تین ریٹائرڈ افسران سمیت تقریباً بیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تحریری بیان دینے والے ملازم عادل شہزاد نے بتایا کہ ریٹائرڈ ایگزیکٹو انجینئرز خالد حسن قاضی، بدر اور فیصل عمران نے مبینہ طور پر اپنے ہیڈ کلرکس اور فورمین کے ساتھ مل کر پرانی دستاویزات تیار کیں تاکہ غیر قانونی الاٹمنٹ کو درست ظاہر کیا جا سکے۔
بیان کے مطابق ریاستی انسپکٹرز، کلرکس، فوٹو کاپی آپریٹرز اور دیگر ملازمین پر مشتمل ایک منظم نیٹ ورک کوارٹرز کی غیر قانونی الاٹمنٹ میں شامل تھا۔ شہزاد نے دعویٰ کیا کہ اسے اس اسکینڈل میں جان بوجھ کر ملوث کیا گیا ہے اور اس کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔
دستاویزات کے مطابق بیک ڈیٹنگ کا طریقہ استعمال کیا جاتا تھا تاکہ شک سے بچا جا سکے یا پکڑے جانے کی صورت میں دستخط جعلی ہونے کا دعویٰ کیا جا سکے۔ شہزاد نے مزید بتایا کہ کوارٹر خالی کرنے والے ملازمین کو 7 لاکھ روپے تک جبکہ لینے والوں سے 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے تھے، جس رقم کو ملوث افراد میں ان کے کردار کے مطابق تقسیم کیا جاتا تھا۔
شہزاد نے کہا کہ جان کے خطرے کے باعث وہ روپوش ہوگیا ہے اور اسے پورے فراڈ کا ذمہ دار بنا کر قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔





