اسلام آباد: سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ریاستی ایوانوں سے ایک بار پھر آئینی ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابھی 26 ویں آئینی ترمیم کے زخم تازہ ہیں اور اب 27 ویں ترمیم کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں۔
اسد قیصر نے یاد دلایا کہ 1973ء کا آئین پاکستان کا متفقہ آئین ہے اور اس پر کسی کو ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے، کیونکہ اس آئین پر ذوالفقار علی بھٹو اور تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آئین ریاست کی تمام اکائیوں کو جوڑے رکھتا ہے اور اگر آئین کی روح کو تبدیل کیا گیا تو جمہوریت اور عوام کو نقصان ہوگا۔
رہنما تحریک انصاف نے موجودہ پارلیمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمان آئینی ترمیم کا اخلاقی جواز نہیں رکھتی اور قوم کو غیر آئینی تبدیلیوں کے خلاف متحد رہنے کی ضرورت ہے۔
ان کا انتباہ تھا کہ اگر غیر آئینی ترمیم کی کوششیں جاری رہیں تو موجودہ نظام اپنی بنیادوں سمیت خطرے میں پڑ سکتا ہے۔






