اسرائیلی فوج کے 2 اعلیٰ افسر گرفتار

0
329

اسرائیلی فوج میں فلسطینی قیدی پر تشدد کی ویڈیو لیک ہونے کے معاملے پر بڑا اسکینڈل سامنے آگیا۔ ویڈیو جاری کرنے کی اجازت دینے والی سابق ملٹری لا آفیسر میجر جنرل یفعات تومر یروشلمی اور چیف پراسیکیوٹر کرنل ماتن سولوموش کو حراست میں لے لیا گیا۔
تومر یروشلمی نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے سدے تیمن حراستی مرکز میں قیدیوں پر تشدد کی سی سی ٹی وی فوٹیج لیک کی تاکہ زیادتیوں کو بے نقاب کیا جا سکے، جس کے بعد وہ مستعفی ہو گئی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چیف پراسیکیوٹر سولوموش نے مبینہ طور پر تومر یروشلمی کے کردار کو چھپانے کی کوشش کی۔
عدالت نے سولوموش کی حراست بدھ دوپہر تک بڑھا دی، جب کہ تومر یروشلمی کی حراست میں تین دن کی توسیع کی گئی۔ تومر یروشلمی پر فراڈ، اعتماد شکنی، شواہد میں رکاوٹ اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات ہیں۔
ویڈیو لیک اسکینڈل کے بعد اسرائیل میں فوجی طرزِ عمل پر سخت تنقید سامنے آئی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے سنگین زیادتیوں کا ثبوت قرار دیا ہے۔ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا دیگر اعلیٰ افسران نے معاملہ چھپانے کی کوشش کی تھی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا