خیبر پختونخوا میں سوات سے ٹیکسلا تک آثارِ قدیمہ کی تلاش کے دوران مزید 8 تاریخی مقامات دریافت ہوئے ہیں۔ بریکوٹ میں 1200 سال پرانے مندر کے آثار بھی سامنے آئے جو اس خطے کی قدیم تہذیبی تسلسل کا اہم ثبوت ہیں۔
یہ دریافتیں اطالوی ماہرین نے صوبائی محکمۂ آثار قدیمہ کے اشتراک سے کی ہیں اور کھدائی کا دائرہ بڑھا کر مندر کے اردگرد بفر زون قائم کیا جا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ علاقے قدیم ادوار سے مسلم دور تک آباد رہے اور ان میں غزنوی دور کا ایک قلعہ بھی شامل ہے۔
تین سالہ ’’خیبر پاتھ‘‘ منصوبے کے تحت 400 سے زائد مقامی افراد کو کھدائی، تلاش اور تحفظِ آثار کی تربیت و روزگار فراہم کیا جائے گا۔ اطالوی ماہرین اس سے قبل بھی 50 سے زائد مقامات دریافت کر چکے ہیں جن میں پتھر کے دور سے لے کر بدھ مت، یونانی، ہندو شاہی اور اسلامی تہذیبوں کے نشانات شامل ہیں۔






