لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان کا قیام اللہ کی حاکمیت کے اصول پر ہوا تھا، اس لیے ریاستی نظام کو اس کے اصل نظریاتی رخ کی طرف لانا ضروری ہے۔ انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو عدالتی استثنیٰ دینا غیر شرعی اور ناقابل قبول ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ باہمی تبادلۂ خیال ملک و قوم کے لیے مفید ثابت ہوگا۔ پاکستان کو قائم ہوئے 78 سال گزر چکے ہیں، لیکن ریاستی نظام وہ سمت اختیار نہیں کر سکا جس کا خواب قائداعظم اور تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں نے دیکھا تھا۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ قیامِ پاکستان عام سیاسی جدوجہد نہیں تھی بلکہ عظیم قربانیوں اور امیدوں کا نتیجہ تھا۔ تحریکِ پاکستان صرف مسلم اکثریتی علاقوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ لوگ بھی اس جدوجہد کا حصہ بنے جنہیں معلوم تھا کہ انہیں اپنے گھر بار اور زمینیں چھوڑنی پڑیں گی۔ مسلمانوں نے دین کی خاطر اپنے گھروں، زمینوں اور حتیٰ کہ آباؤ اجداد کی قبریں تک چھوڑ دیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان ایک ایسے ملک کے لیے قربانیاں دے رہے تھے جہاں اسلام کا عادلانہ نظام نافذ ہو۔ قائداعظم کی قیادت میں مسلمانانِ ہند نے اللہ کی حاکمیت کے اصول پر پاکستان کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔
حافظ نعیم نے مزید کہا کہ “پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ” کوئی نعرہ نہیں بلکہ زندگی کے مکمل اسلامی نظام کا اعلان ہے۔ اللہ کے سوا کوئی طاقت، حکومت یا قوم حاکمیت کا حق نہیں رکھتی۔ پاکستان اسی نظریے پر وجود میں آیا تھا کہ یہاں اسلامی عدل اور اجتماعی انصاف کا نظام قائم ہو، اس لیے ضروری ہے کہ ریاستی نظام کو اس کی اصل نظریاتی اور آئینی سمت کی طرف لوٹایا جائے۔





