مفتی اعظم پاکستان محمد تقی عثمانی نے کہا ہے کہ اسلام میں کوئی شخص یا عہدہ دار عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ خلفائے راشدین بھی عدالتی احتساب سے مستثنیٰ نہیں تھے، اس لیے صدرِ مملکت کو تاحیات استثنیٰ دینا شریعت اور آئین دونوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے بھی صدر کو دورانِ صدارت تحفظ دینا غلط تھا، اب اسے تاحیات استثنیٰ دینا ملک کے لیے شرمناک ہوگا۔ مفتی تقی عثمانی نے پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ اس “گناہ” کو اپنے سر نہ لیں۔
واضح رہے کہ سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت آرٹیکل 248 میں ترمیم منظور کر لی ہے جس کے بعد صدر کو عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی کسی قانونی کارروائی سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔ البتہ اگر سبکدوش صدر کوئی عوامی عہدہ سنبھالیں تو استثنیٰ ختم ہو جائے گا۔






