۔27ویں آئینی ترمیم پر سپریم کورٹ میں ہلچل؛ جسٹس اطہر من اللہ اور 38 ماہرینِ قانون کا چیف جسٹس کو خط

0
325

اسلام آباد: 27 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اطہر من اللہ سمیت 38 ماہرینِ قانون نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر عدلیہ کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ کا 8 اکتوبر کو تحریر کردہ خط منظر عام پر آگیا ہے جس میں انہوں نے عدالتِ عظمیٰ کے کردار پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ “سپریم کورٹ اکثر طاقتور کے ساتھ کھڑی رہی، عوام کے ساتھ نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی پھانسی عدلیہ کا ناقابلِ معافی جرم تھا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف عدالتی کارروائیاں اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں جبکہ عمران خان کے ساتھ ہونے والا سلوک بھی اسی جبر کا تسلسل ہے۔

خط کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کو عوامی اعتماد حاصل ہونے پر نشانہ بنایا گیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بہادر ججز کے اعترافات سپریم کورٹ کے ضمیر پر بوجھ ہیں، سچ جاننے کے باوجود باتیں صرف سرگوشیوں تک محدود رہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی مداخلت اب راز نہیں بلکہ کھلی حقیقت ہے اور سچ بولنے والے جج کو انتقام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سابق لاء کلرکس کا خط

اس سے قبل سپریم کورٹ کے 38 سابق لاء کلرکس نے بھی چیف جسٹس کو خط لکھ کر فل کورٹ میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں عدلیہ 2007 کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرات سے دوچار ہے۔ انہوں نے لکھا:
“آپ کا ردعمل طے کرے گا کہ آپ تاریخ میں کس طور پر یاد رکھے جائیں گے—عدلیہ کے دفاع کرنے والے چیف جسٹس کے طور پر یا اسے دفن کرنے والے کے طور پر۔”

دونوں خطوط منظر عام پر آنے سے 27 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر عدلیہ کے اندرونی اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا