قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم پیش، اپوزیشن شدید احتجاج

0
669

اسلام آباد: سینیٹ سے منظور ہونے والی 27 ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کر دیا گیا جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس آدھا گھنٹہ تاخیر سے اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیمی بل پیش کیا۔ اجلاس کے آغاز پر سینیٹر عرفان صدیقی کے لیے دعائے مغفرت کی گئی، جس کے بعد وزیر قانون کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے نعرے بازی کی۔

وزیر قانون نے کہا کہ آئینی ترمیم ہمیشہ مشاورت سے کی جاتی ہے، ماضی میں سوموٹو اختیارات کا بے جا استعمال ہوا، اور آرٹیکل 200 میں ترمیم کے ذریعے ججز کے تبادلوں کا اختیار جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئینی عدالت صوبوں اور آئینی مقدمات دیکھے گی، جبکہ سپریم کورٹ دیوانی نوعیت کے 62 ہزار سے زائد مقدمات سنبھالے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ترمیم منظور ہوئی تو موجودہ چیف جسٹس ہی آئینی کمیشن اور دیگر اداروں کی سربراہی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے 5 ججز جبکہ حکومت و اپوزیشن کے 2،2 ارکان پر مشتمل ہوگا۔

آج جمہوریت کے لیے سوگ کا دن ہے: بیرسٹر گوہر

بیرسٹر گوہر نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ آئین مقدس ذمہ داری ہے آج اس ذمہ داری سے بے ایمانی کی گئی، ہم ان کو قانون کے کٹہرےمیں لائیں گے اوریہ ہوکر رہے گا، آئین میں ترمیم ہوتی ہے تو عوام امیدیں جوڑتی ہے، آج افسوس کے ساتھ جمہوریت کے لیے ایک سوگ کا دن ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت کو دفن کرنے کے لیے ایک قدم اگے بڑھا جا رہا ہے، اس ترمیم کے بعد جمہوریت برائے نام رہ جائے گی، 26ویں ترمیم کا رہ جانے والا ایجنڈا اب لایا گیا ہے، طاقت کے سر پر قائم عمارتوں کو عوام اپنے اوپر بوجھ سمجھتے ہیں، تاریخ میں پہلی مرتبہ باکو میں بیٹھ کر ترمیم منظور کروائی گئی، اس کو ہم باکو ترمیم کہتے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا