اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر صدرِ مملکت، نواز شریف اور اتحادی جماعتوں کے سربراہان و ارکان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آئینی عدالتوں کے قیام سے بےنظیر بھٹو کی روح کو آج تسکین مل رہی ہوگی۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایوان نے قومی اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کیا اور تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے مرحوم استاد عرفان صدیقی کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے انہیں “اساتذہ کے استاد” قرار دیا اور ان کے لیے نیک دعاؤں کا خواستگار رہے۔
وانا آپریشن کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ وانا میں خوارج نے دہشت گردی کی مذموم کوشش کی، جس سے سانحۂ اے پی ایس کی یاد تازہ ہو گئی۔ خوش قسمتی ہے کہ اس واقعے میں جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے افواجِ پاکستان کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد، جن میں کچھ افغان عناصر بھی شامل تھے، ہلاک کر دیے گئے اور تمام کیڈٹس، اساتذہ و طلبہ بحفاظت نکالے گئے۔ پوری قوم نے اس کامیاب آپریشن پر افواج کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اسلام آباد کی کچہری کے باہر ہونے والے دہشت گرد حملے کو وزیرِ اعظم نے “اندوہناک” قرار دیا، جس میں وکلا سمیت 12 افراد شہید اور چار افراد زخمی ہیں۔ انہوں نے شہدا کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
شہباز شریف نے دونوں واقعات اور دیگر دہشتگردانہ حملوں میں “خارجی ملوث عناصر” کی موجودگی کا موقف دہرایا اور کہا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہ افغانستان سے متحرک ہیں اور ان کے بھارت کے ساتھ بھی روابط ہیں۔ ان کے بقول ایسے شواہد عالمی سطح پر پیش کیے جا چکے ہیں اور کسی نے ان حقائق کو چیلنج نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیرونی مداخلت کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا اور پہلے بھی جواب دیا گیا اور آئندہ بھی دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ دوحہ اور استنبول میں افغان عبوری حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بارہا یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ عبوری حکومت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو روکنے میں کردار ادا کرے۔
شہباز شریف نے افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے جوان، افسر اور دیگر فورسز ملک میں امن کے لیے جان کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دیے گئے اعزاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل کا منصب آئندہ بری، بحری اور فضائی سربراہان کے لیے بھی دستیاب ہوگا اور یہ عمل آئین کے تحت تسلیم کیا جائے گا۔
آئینی ترمیم کے تناظر میں وزیراعظم نے صدر مملکت، اسپیکر، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل، سیکریٹری قانون اور دیگر افراد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ ترامیم میثاقِ جمہوریت کے خواب کی تعبیر ہیں جو 19 سال بعد شرمندۂ تعبیر ہوئیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آئینی عدالت اور دیگر اداروں کی سربراہی کریں گے۔
شہباز شریف نے قوم سے اپیل کی کہ اختلافات کے باوجود گالی گلوچ اور الزام تراشی ختم کی جائے اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے سب مل کر کام کریں۔ انہوں نے ملکی یکجہتی، سفارتی احترام اور صوبائی استحکام پر زور دیا اور کہا کہ صوبے مضبوط ہوں تو وفاق مضبوط ہوگا۔ آخر میں انہوں نے آئندہ معاملات پر بیٹھ کر بات چیت کر کے حل نکالنے اور وفاق اور صوبوں کے درمیان امور کو شفاف طور پر طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔





