ججز کے استعفے غیر آئینی ہیں، بیرسٹر عقیل

0
290

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ججز کا استعفیٰ دینا ان کا حق ہے، مگر خطوط میں یہ لکھنا کہ عدلیہ پر حملہ ہوا سراسر غلط اور غیر آئینی الزام ہے۔

بیرسٹر عقیل نے کہا کہ اگر ججز کو کوئی مسئلہ تھا تو وہ چیف جسٹس سے بات کر سکتے تھے، اور جب پارلیمان نے اپنا آئینی حق استعمال کیا تو استعفیٰ آگیا۔ انہوں نے ان استعفوں کو کئی حوالوں سے غیر آئینی اقدامات قرار دیا۔

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ اداروں کے درمیان تصادم یا لڑائی کی کوئی بات نہیں، پارلیمان کا حق ہے کہ وہ آئینی ترامیم اور قانون سازی کرے، اور اداروں کے درمیان حدود واضح ہیں۔

بیرسٹر عقیل نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے عدالتی نظام میں مزید بہتری آئے گی، اور سپریم کورٹ اسی آئین کے تحت کام کرتی رہی ہے۔ آئین بذات خود اجازت دیتا ہے کہ ترامیم کی جائیں، اور آئین کے مطابق آگے بڑھنے پر عدالت میں چیلنج ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالتوں سے امید ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کریں گی اور فل کورٹ اجلاس میں بھی آئینی حدود کے مطابق کارروائی ہوگی۔ وزیر مملکت نے واضح کیا کہ پارلیمان کو قانون سازی کا مکمل استحقاق حاصل ہے اور اسے چیلنج کرنے کی کوئی قانونی گنجائش نہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا