اسرائیلی وزیراعظم نے معافی کی درخواست کر دی

0
361

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے برسوں سے جاری کرپشن کیس میں صدر سے معافی کی درخواست کر دی ہے۔ نیتن یاہو نے مؤقف اختیار کیا کہ فوجداری ٹرائل ان کی حکومتی ذمہ داریوں کو متاثر کر رہا ہے اور کیس کا خاتمہ ملک کے لیے بہتر ہوگا۔

وزیراعظم کے وکلا کی جانب سے صدر کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ ٹرائل کی وجہ سے ملک تقسیم کا شکار ہے اور قومی اتفاقِ رائے کے لیے کیس کا ختم ہونا ضروری ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انہیں ہفتے میں تین بار عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے جو ان کے لیے ناممکن مطالبہ ہے، جبکہ وہ انتخابات میں بارہا عوام کا اعتماد حاصل کر چکے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر یایر لیپڈ نے کہا کہ جب تک نیتن یاہو جرم کا اعتراف، پچھتاوے کا اظہار اور سیاست سے ریٹائرمنٹ نہیں لیتے، انہیں معافی نہیں ملنی چاہیے۔

صدر کے دفتر کے مطابق یہ درخواست غیرمعمولی ہے اور اس کے سنجیدہ نتائج ہیں، اس لیے مشاورت کے بعد ذمہ داری سے فیصلہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ نیتن یاہو پر رشوت، فراڈ اور غبن کے الزامات ہیں جنہیں وہ مسترد کرتے ہیں جبکہ ان کے خلاف ٹرائل پانچ برس سے جاری ہے۔ قانون کے مطابق معافی سزا کے بعد دی جاتی ہے، تاہم وکلا کا مؤقف ہے کہ قومی اتحاد کی خاطر صدر خصوصی اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا