جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہوگی اور مسلح گروہ جنگ چھوڑ دیں کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
جامعہ اسلامیہ بابوزئی میں خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے اور پاکستان وہ نہیں جس کی عوام نے امیدیں لگائی تھیں۔ انہوں نے آئین اور عوامی حقوق کی پامالی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ 27ویں ترمیم جعلی اکثریت سے منظور کی گئی جبکہ سی پیک کے منصوبے آج بھی بند ہیں۔
فضل الرحمن نے حکومت پر زور دیا کہ عوام کو ان کے حقوق دیے جائیں اور ملک میں امن اور آزادی یقینی بنائی جائے۔






