مین ہول میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی لاش نکال لی گئی

0
450

کراچی: گلشن اقبال کے علاقے نیپا چورنگی پر کھلے مین ہول میں گرنے والے 3 سالہ نبیل کی لاش 14 گھنٹے بعد ایک کلومیٹر دور نالے سے برآمد ہوئی۔ واقعہ اتوار کی رات پیش آیا جب نبیل اپنی فیملی کے ساتھ خریداری کے لیے ڈپارٹمنٹل سٹور کے باہر موجود تھا۔

ریسکیو 1122 کے مطابق فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، لیکن ڈائیونگ آلات کی عدم موجودگی کے باعث کارروائی دو گھنٹے کے لیے رک گئی۔ ساڑھے گیارہ گھنٹے کی مسلسل کوششوں کے بعد آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا کیونکہ متعلقہ ادارے جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے۔

ریسکیو حکام کے مطابق پانچ مختلف مقامات پر کھدائی کی گئی اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن و کے ایم سی کے عملے کی دیر سے آمد نے سرچ آپریشن میں مشکلات پیدا کیں۔ شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوائی اور کھدائی جاری رکھی۔

بچے کے والد کا کہنا تھا کہ وہ شاپنگ کے بعد نکلے تو بیٹا ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور کھلے مین ہول میں گر گیا۔ دادا محمود الحسن نے بتایا کہ یہ والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور وہ ریسکیو کے کام سے مطمئن نہیں، مزید مشینری بھیجنے اور تلاش کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔

شہری احتجاج

واقعے کے بعد نیپا چورنگی پر شہریوں نے احتجاج کیا، ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کیں اور پتھراؤ کیا۔ مشتعل افراد نے کئی راستے بند کر دیے اور میڈیا پر بھی حملہ کیا۔

حکومتی ردعمل

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا کہ مین ہول کے ڈھکن نہ ہونے کی انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور غفلت ثابت ہونے پر کارروائی ہوگی۔ ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے بھی نوٹس لے لیا اور ریسکیو اداروں کو الرٹ کرنے کے ساتھ بچے کی تلاش جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

خیال رہے کہ رواں سال کراچی میں 24 افراد کھلے مین ہول اور نالوں میں گرنے سے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں 19 مرد اور 5 بچے شامل ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا