اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا اجلاس ہوا، جس میں تمام صوبوں کے وزرائے خزانہ اور کچھ پرائیوٹ ممبران شریک ہوئے۔ اجلاس میں وفاق اور صوبوں نے اپنی مالی صورتحال پر بریفنگ دی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ این ایف سی کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور خدشات کا حل شفاف اور مخلصانہ مکالمہ ہے، اور 11ویں این ایف سی ایوارڈ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا حکومت کی منزل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبوں کے ساتھ تعمیری اور باہمی احترام کے جذبے کے تحت مذاکرات جاری رہیں گے۔
محمد اورنگزیب نے سیلاب اور دیگر چیلنجز کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون کو سراہا اور صوبوں کی جانب سے نیشنل فِسکل پیکٹ پر دستخط کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی اتحاد اور مشترکہ عزم کے ذریعے این ایف سی کے معاملات کو کامیابی سے مکمل کرنا ممکن ہے۔
دوسری جانب وزارت منصوبہ بندی نے دو نئے طریقہ کار پر تجاویز وزیراعظم کو پیش کی ہیں، جن میں قابل تقسیم محاصل سے مخصوص کٹوتیاں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اخراجات پہلے نکالنے، اور این ایف سی تقسیم میں آبادی کے وزن کے بجائے ریونیو جنریشن، زرخیزی اور جنگلاتی رقبے کو ترجیح دینے کی سفارش شامل ہے۔






