مردان میں غیر قانونی سگریٹ سازی بے نقاب، ایف بی آر کا چھاپہ — بھاری مشینری ضبط
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ان لینڈ ریونیو نے مردان میں غیر قانونی سگریٹ تیار کرنے کے لیے تمباکو بنانے والی فیکٹری پر چھاپے کے دوران مشینری ضبط کرلی۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق مردان میں ایف بی آر ان لینڈ ریونیو نے چیف کمشنر آر ٹی او پشاور کی نگرانی میں فیکٹری پر چھاپہ مارا، جہاں خفیہ اور غیر قانونی مشینری کے ذریعے سگریٹ بنانے کے لیے تمباکو تیار کیا جا رہا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ مشینری کی یومیہ پیداوار 6 سے 7 ہزار کلوگرام تھی، جبکہ تیار ہونے والے غیر قانونی سگریٹس کی مالیت روزانہ ساڑھے چار کروڑ روپے تک تھی۔ فیکٹری کے پاس منظور شدہ مشینری بھی موجود تھی، مگر اضافی خفیہ مشینیں غیر قانونی سگریٹ کی تیاری کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں تیار کیا جانے والا تمباکو آزاد کشمیر اور حیدرآباد کے یونٹس کو بھیجا جاتا تھا۔
حکام کے مطابق مشینری ضبط کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ فیکٹری مالکان کا تعلق مردان کی سیاسی شخصیت، سابق رکن اسمبلی نسیم الرحمان کے خاندان سے جبکہ ڈائریکٹرز کا تعلق لاہور کے ایک گروپ سے بتایا جارہا ہے۔
ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم نے کسی دباؤ میں آئے بغیر کارروائی مکمل کی، جبکہ ایف بی آر حکام نے قانون کی بالادستی قائم رکھنے کیلئے غیر قانونی تمباکو سازی کے خلاف مزید سخت اقدامات اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔






