حماس نے ہتھیار پھینکنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی

0
266

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے پہلی بار اسرائیل کے خلاف ہتھیار پھینکنے پر مشروط رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ نے کہا کہ تنظیم کے ہتھیاروں کا مقصد صرف اسرائیلی قبضے اور جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے۔ اگر اسرائیل فلسطینی علاقوں سے قبضہ ختم کر دے تو حماس اپنے تمام ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔

خلیل الحیہ نے یہ بھی کہا کہ حماس اقوام متحدہ کی ایسی علیحدگی فورس کی تعیناتی قبول کرے گی جو سرحدوں کی نگرانی کرے اور غزہ میں جنگ بندی پر عملدرآمد یقینی بنائے۔

ادھر اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ تازہ کارروائیوں میں مزید 7 فلسطینی شہید ہو گئے۔
11 اکتوبر 2025 سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں کے باعث 367 فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی کہا ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں جو غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں اب تک 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 20 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا