حماس کے سینئر رہنما اور خارجہ امور کے سربراہ خالد مشعل نے ایک تازہ گفتگو میں غزہ جنگ بندی معاہدے کے مستقبل پر واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ بالکل ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ یہ تنظیم کی بنیادی روح کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا۔
خالد مشعل نے بتایا کہ حماس غزہ سے اسرائیل پر مستقبل میں حملے روکنے کے لیے اقدامات پر آمادہ ہے، مگر اس کا انحصار اسرائیل کے طرزِ عمل پر ہوگا۔ ان کے مطابق، جب تک اسرائیل اپنی خلاف ورزیاں نہیں روکتا، جنگ بندی کے اگلے مراحل میں پیش رفت ممکن نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس غزہ میں ایسی کسی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گی جس میں فلسطینی عوام کی نمائندگی شامل نہ ہو۔ ان کا اشارہ اس مجوزہ انتظامی ڈھانچے کی طرف تھا جس میں غیر فلسطینی شخصیات کو اہم کردار دینے کی بات کی جا رہی تھی۔
جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس میں اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ضروری ہے، کیونکہ صرف مخصوص لائن کے پیچھے ہٹنے سے بھی غزہ کا بڑا حصہ اسرائیلی قبضے میں رہے گا۔ اسرائیل کے مکمل غیر مسلح ہونے کے مطالبے پر انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ایسا ممکن نہیں۔ تاہم وہ اس مؤقف کو دہرا چکے ہیں کہ آزاد فلسطینی ریاست قائم ہونے کی صورت میں ہتھیار فلسطینی حکومتی فورس کے حوالے کیے جا سکتے ہیں۔






