بھارت میں 10 لاکھ افراد کو جعلی ڈگریاں دینے کا انکشاف

0
314

بھارتی ریاست کیرالا کی پولیس نے جعلی یونیورسٹی ڈگریاں اور غیر ملکی اسناد تیار کرنے والے ایک بڑے نیٹ ورک کا انکشاف کر کے اسے پکڑ لیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف ریاستوں سے 11 افراد کی گرفتاری کے بعد معلوم ہوا ہے کہ یہ گروہ ملک بھر میں تقریباً 10 لاکھ سے زائد افراد کو جعلی سرٹیفکیٹس فراہم کر چکا ہے۔

گینگ کے سرغنہ دھنیش عرف ڈینی پر پولیس نے پہلی بار 2013 میں جعلی سرٹیفکیٹس فروخت کرنے کے الزام میں کارروائی کی تھی۔ سزا کے بعد اس نے دوبارہ نیٹ ورک قائم کیا، جس میں مختلف ریاستوں میں موجود ایجنٹس شامل تھے۔

دھنیش نے پولّچی میں خفیہ پرنٹنگ پریس قائم کیا، جہاں معروف یونیورسٹیوں کے سرٹیفکیٹس چھاپ کر امیدواروں کی تفصیلات شامل کی جاتیں۔ تیار شدہ سرٹیفکیٹس پہلے بنگلور بھیجے جاتے اور پھر کیرالا، تامل ناڈو، کرناٹک، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، گوا، دہلی اور مغربی بنگال میں ایجنٹس کے ذریعے تقسیم کیے جاتے تھے۔

پولیس کے مطابق ان جعلی ڈگریوں پر جعلی دستخط، ہولوگرام، مہر اور یونیورسٹی کے اسٹیمپ لگائے گئے تھے۔ کارروائی کے دوران سیکڑوں پرنٹرز، کمپیوٹرز اور جعلی مہریں برآمد کی گئیں، جبکہ تقریباً ایک لاکھ جعلی سرٹیفکیٹس ضبط کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق دھنیش شاہانہ طرزِ زندگی گزار رہا تھا، اس کے پاس لگژری گھر، 2 فائیو اسٹار بارز، پونے میں اپارٹمنٹس اور مشرقِ وسطیٰ میں سرمایہ کاری موجود تھی۔ اسے کالی کٹ ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا جب وہ اہلخانہ کے ساتھ بیرونِ ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہر جعلی سرٹیفکیٹ 75 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں فروخت کیا جاتا تھا، جس سے دھنیش نے کروڑوں روپے کمائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا