پاکستان معاشی بحران سے نکل چکا، ادارہ جاتی اصلاحات سے ترقی کی راہ ہموار ہوگی:وزیراعظم

0
755

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی بحران سے نکل چکا ہے اور ترقی کی جانب رواں دواں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات سے گڈ گورننس میں اضافہ ہوگا اور نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں جنہیں فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کر کے برسر روزگار کیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، معاون خصوصی ہارون اختر، برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی دی رائیٹ آنر ایبل بیرونس چیپمین، اراکین پارلیمنٹ، کاروباری شخصیات اور دیگر بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کار اور کاروباری برادری پیچیدہ قوانین اور طویل طریقہ کار سے پریشان تھے، اور نیشنل ریگولیٹری اصلاحات کے نفاذ سے کاروباری ماحول بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت سنبھالی گئی تو ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار تھی، مہنگائی بے قابو تھی اور کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں، لیکن بہتر حکمت عملی اور ٹیم ورک کے ذریعے ملک کو بحران سے نکالا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو چکا ہے اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، آئی ایم ایف نے 1.2 بلین ڈالر کی قسط کی منظوری دی ہے، جس سے معیشت مزید مضبوط ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت دی جا رہی ہے تاکہ نہ صرف ملک بلکہ بیرون ممالک میں بھی روزگار کے مواقع میسر آئیں، جس سے بیروزگاری کا خاتمہ اور زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر تعلیم، زراعت، صنعت، صحت اور سوشل سیکٹر سمیت دیگر شعبوں میں ادارہ جاتی اصلاحات کے بہتر نتائج سامنے لا رہی ہے۔

معاون خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ یہ اصلاحات ایک نئے باب کا آغاز ہیں اور ترقیاتی ریاست شہریوں کو جدت، مقابلہ اور ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔

برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی بیرونس چیپمین نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے بہترین ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط بڑھانے کے لیے پر عزم ہیں۔

تقریب سے قبل وزیراعظم نے نیشنل ریگولیٹری اصلاحات کا افتتاح کیا، جس کے ذریعے کاروباری ماحول کو مزید شفاف اور سہل بنایا جائے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا