اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتِ وقت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ خصوصی بچوں کو معاشرے میں کھڑا ہونے کے قابل بنائے۔ یہ قوم کے بچے ہیں اور انہیں بااعتماد، خودمختار اور باصلاحیت بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم نے اسلام آباد میں آٹزم کے لیے سینٹر آف ایکسیلنس کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کہا کہ قوم کے متعدد ادارے دہائیوں سے خصوصی بچوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ آج آٹزم کے شکار بچوں کے لیے ایک اہم ادارے کی بنیاد رکھی گئی ہے، جسے دو سال کے بجائے ایک سال میں مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے خصوصی بچوں کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہوتا ہے۔ تقریب کے دوران خصوصی بچوں کی جانب سے پیش کی گئی موسیقی نے اس بات کا ثبوت دیا کہ یہ بچے بھی اپنی صلاحیتوں سے پورے معاشرے میں محبت اور امید کے پھول بکھیر سکتے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خصوصی بچوں کی تربیت اور ان کا ہاتھ تھامنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ جو بھی اس نیک مقصد میں حصہ ڈالے گا وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرے گا۔ اس ادارے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے سب کو اپنی کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آٹزم سینٹر آف ایکسیلنس کے لیے 15 کوچز کی گرانٹ دی جا رہی ہے، تاکہ سرخ فیتے کی رکاوٹیں ختم کی جا سکیں۔ وزیراعظم نے ادارے کی تعمیر پر کام کرنے والوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

قبل ازیں وزیراعظم کو منصوبے پر بریفنگ دی گئی، انہوں نے آٹزم سے متاثرہ زیرِ تربیت بچوں سے ملاقات کی اور ان سے شفقت کا اظہار کیا۔
تقریب کے آغاز پر خصوصی بچوں نے قومی ترانہ پڑھ کر وطن سے والہانہ محبت کا اظہار کیا، جبکہ موسیقی اور خوبصورت خاکے کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کیا۔
وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے اس موقع پر کہا کہ آج ایک قومی ارادے کو عملی شکل دے کر قومی ادارے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر معذوری کے ساتھ کوئی نہ کوئی صلاحیت بھی عطا کرتا ہے، اور یہ ادارہ ان بچوں کو باصلاحیت بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
آٹزم ایکسپرٹ عائشہ ہارون نے بتایا کہ خصوصی بچوں کی خدمت کرتے ہوئے انہیں 15 سال ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے بچے کے آٹزم کا شکار ہونے سے ان کی زندگی کا رخ بدل گیا، اور اسی تجربے نے انہیں اس میدان میں کام کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں خصوصی بچوں کے اداروں سے سیکھنے کے بعد وطن واپسی پر 2009 میں اوئیسس اسکول کی بنیاد رکھی، جہاں اس وقت 70 بچے زیرِ تعلیم ہیں۔






