توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا

0
578

توشہ خانہ ٹو کیس میں احتساب عدالت نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید اور فی کس ایک کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار 650 روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

عدالت نے دونوں ملزمان کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 10، 10 سال قید جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت 7، 7 سال قید کی سزا سنائی، یوں مجموعی طور پر ہر ایک کو 17 سال قید کی سزا دی گئی۔

فیصلہ سپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں سنایا، تاہم اس موقع پر ملزمان کے وکلا عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔

واضح رہے کہ نیب نے 13 جولائی 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں گرفتار کیا تھا۔ دونوں ملزمان 37 دن تک نیب کی تحویل میں رہے، جس کے بعد 20 اگست 2024 کو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے نیب ترامیم بحالی فیصلے کے بعد 9 ستمبر 2024 کو کیس ایف آئی اے اینٹی کرپشن عدالت منتقل ہوا، جہاں اینٹی کرپشن ایکٹ کی دفعہ 5 اور پی پی سی کی دفعہ 409 شامل کی گئیں۔ ان دفعات کے تحت ملزمان کو 14 سال یا عمر قید اور عوامی عہدے کے لیے نااہلی کی سزا بھی ہو سکتی تھی۔

کیس کا باقاعدہ ٹرائل 16 ستمبر 2024 کو اڈیالہ جیل میں شروع ہوا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 23 اکتوبر 2024 کو بشریٰ بی بی اور 20 نومبر 2024 کو عمران خان کی ضمانت منظور کی، جبکہ 12 دسمبر 2024 کو دونوں پر فردِ جرم عائد کی گئی۔ تقریباً ایک سال تک جیل ٹرائل جاری رہا اور 80 سے زائد سماعتیں ہوئیں۔

پراسیکیوشن کے مطابق ملزمان نے 2021 میں سعودی ولی عہد کی جانب سے دیا گیا بلغاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا اور اس کی اصل قیمت ساڑھے 7 کروڑ روپے سے زائد ہونے کے باوجود کم مالیت ظاہر کی گئی۔ ایف آئی اے نے اس حوالے سے وزارتِ خارجہ اور بلغاری کمپنی سے تصدیقی ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیا۔

اہم گواہان میں سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر (ر) محمد احمد، پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی اور سابق پرنسپل سیکرٹری انعام اللہ شامل تھے، جبکہ سرکاری وکلا کی ٹیم نے کیس کی پیروی کی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا