وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چودھری نے کہا ہے کہ توشہ خانہ ٹو ایک بالکل واضح کیس تھا اور اس میں سزا ہونی ہی تھی، کیونکہ ملزمان کے پاس صفائی کے لیے کوئی مضبوط مؤقف موجود نہیں تھا۔
اپنے بیان میں سینیٹر طلال چودھری نے کہا کہ بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نے توشہ خانہ ون میں نہ ڈنر سیٹ چھوڑا اور نہ ہی فون سیٹ، جبکہ توشہ خانہ ٹو میں دنیا بھر کا نایاب اور اربوں روپے مالیت کا ہار شامل تھا، جس کی جان بوجھ کر غلط قیمت لگوائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ حکمران کے پاس بطور امانت ہوتا ہے، مگر اس معاملے میں امانت میں خیانت کی گئی اور چند روپے ادا کر کے اربوں روپے مالیت کا ہار ذاتی تحویل میں رکھا گیا۔
وفاقی وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ اس کیس میں 14 سے 15 ماہ کا وقت لگا، حالانکہ فیصلہ چند ہفتوں میں بھی ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق اگرچہ فیصلہ تاخیر سے آیا، مگر درست آیا، تاہم ایسے فیصلے بروقت ہونے چاہییں تاکہ کسی قسم کے سوالات جنم نہ لیں۔
سینیٹر طلال چودھری نے مزید کہا کہ ماضی میں بعض معاملات میں اندرونی سپورٹ موجود رہی، جس کے باعث مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔






