ڈھاکا: بنگلا دیشی طالبعلم رہنما عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت

0
745

بنگلا دیشی طالبعلم رہنما عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی، جس میں عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ بنگلا دیشی پارلیمنٹ کے ساؤتھ پلازا میں ادا کی گئی، جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے اطراف میں ڈرون اڑانے پر بھی مکمل پابندی عائد رہی۔

بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے عثمان ہادی کے انتقال پر ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا، جس کے باعث قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا جبکہ سرکاری تقریبات محدود کر دی گئیں۔

دوسری جانب عثمان ہادی کے قتل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ مشتعل مظاہرین نے شیخ مجیب الرحمن کا گھر نذرِ آتش کر دیا جبکہ مختلف شہروں میں اخبارات کے دفاتر اور دیگر عمارتوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔

شاہ باغ اور ہادی اسکوائر میں مظاہرین نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے بازی کی اور انہیں ’’گجرات کا قصائی‘‘ قرار دیا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ عثمان ہادی کے قتل میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ملوث ہے۔

بنگلا دیشی حکام نے واقعے میں ملوث افراد کی بھارت سے حوالگی کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ عثمان ہادی سابق وزیرِاعظم حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹنے والی تحریک کے اہم رہنما تھے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا