پاکستان ریلویز کی اراضی پر 401 ارب روپے سے زائد فراڈ، نیب تحقیقات شروع

0
418

پاکستان کے چاروں صوبوں میں پاکستان ریلویز کی سیکڑوں ایکڑ قیمتی اراضی پر غیر قانونی قبضے اور لیز پر دینے کے سلسلے میں 401 ارب روپے سے زائد مالیت کے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ فراڈ میں ملوث ریلوے افسران اور نجی کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع تو ہوئیں مگر مکمل نہ ہو سکیں، جس پر یہ کیس قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کر دیا گیا۔

نیب نے وزارت ریلوے کی طرف سے موصول ہونے والے فراڈ کے ریکارڈ کی بنیاد پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے نیب کی معاونت کے لیے ہائی پروفائل کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو ضروری دستاویزات، معلومات اور قانونی و تکنیکی مدد فراہم کرے گی۔

نیب کو موصولہ کیسز میں کئی اہم فراڈ شامل ہیں جن میں رائل پام کنٹری کلب کی لیز اور کرائے کے 2.16 ارب روپے سے زائد بقایاجات کی عدم وصولی، مردان ریلوے اسٹیشن کے قریب 2 ایکڑ اراضی پر گودام اور دفاتر کی لیز میں 25 کروڑ روپے سے زائد فراڈ، اور کراچی گھوٹ میں 42 ایکڑ اراضی کی لیز میں 20.3 کروڑ روپے سے زائد فراڈ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ چمن اور کوئٹہ میں پی ٹی سی ایل کو لیز پر اراضی دینے اور ریلوے کی کمرشل اراضی پر قبضے کی مد میں 13 ارب روپے سے زائد رقم کا معاملہ، لاہور میں 18 ایکڑ اراضی ٹرسٹ اسپتال شالیمار کو دینے اور لیز کی مد میں 23.15 ارب روپے سے زائد رقم، اور پاک بزنس ٹرین آؤٹ سورسنگ کے تحت فور برادرز کمپنی کا 2.75 ارب روپے سے زائد کا کیس شامل ہے۔

نیب کی تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کس طرح ریلوے اراضی اور وسائل کا ناجائز استعمال کیا گیا اور فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا