جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ 15 جنوری کو پورے ملک میں عوامی ریفرنڈم کرایا جائے گا، جس کے بعد چاروں صوبائی اسمبلیوں کی جانب مارچ کیا جائے گا۔
راولپنڈی کے لیاقت روڈ پر بلدیاتی ایکٹ پنجاب کے خلاف جماعت اسلامی کے زیر اہتمام دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے بارش کے باوجود دھرنے میں شرکت پر کارکنان اور شہریوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ سال 14 دن دھرنا دیا گیا تھا، کیا اب بھی عوام تیار ہیں؟
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ فارم 47 کی پیداوار قوتوں کو اسٹیبلشمنٹ نے حکومت میں بٹھا دیا ہے، اسمبلیوں میں بیٹھے افراد عوامی مینڈیٹ سے نہیں بلکہ مسلط کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحفظ کے لیے طویل جدوجہد ناگزیر ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) گزشتہ چھ برسوں سے بلدیاتی انتخابات کرانے میں ناکام رہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایک ہی خاندان، چوہدری اور وڈیرے پنجاب اور سندھ میں حکومتیں بناتے ہیں اور اقتدار اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بڑے منصوبوں کے نام پر بڑی رشوتیں لی جا رہی ہیں، جبکہ بیوروکریسی کو بلدیاتی حکومتوں کے ماتحت ہونا چاہیے۔
انہوں نے تعلیمی اور صحت کے شعبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دو کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اس کے باوجود حکومت تعلیمی اداروں اور بیسک ہیلتھ یونٹس کو آؤٹ سورس کر رہی ہے، جبکہ اچھی حکومت خود ادارے چلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کا موازنہ سندھ سے نہیں بلکہ خود پنجاب سے ہونا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ غریب عوام پر نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتیں پانچ سال کی کم ترین سطح پر ہیں۔ انہوں نے ایف بی آر پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کو میئر کے ماتحت ہونا چاہیے اور اس معاملے پر جماعت اسلامی عدالت سے بھی رجوع کر چکی ہے۔
انہوں نے عدالتی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور یہ ایک فرسودہ نظام ہے جو فوجی آمریتوں اور ان کے زیر اثر حکمرانوں نے تشکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے پوچھا جائے گا کہ وہ عدل کا نظام چاہتے ہیں یا نہیں اور کیا وہ موجودہ نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اس وقت کراچی سے خیبر تک دھرنے جاری ہیں اور 15 جنوری تک آرام سے نہیں بیٹھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی ریفرنڈم کے نتائج اکٹھے کر کے پوری دنیا کو بتایا جائے گا کہ پاکستانی عوام کیا چاہتے ہیں، جس کے بعد چاروں صوبائی اسمبلیوں کی جانب مارچ کیا جائے گا۔






