صدر مملکت آصف علی زرداری نے عراق کے صدر ڈاکٹر عبداللطیف جمال رشید سے بغداد پیلس میں ملاقات کی، جہاں ان کی آمد پر انہیں شاندار گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور سرکاری استقبالیہ تقریب میں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔
اعلامیے کے مطابق دونوں صدور کے درمیان ون آن ون اور وفود کی سطح پر تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں، جبکہ عراقی صدر نے صدر آصف علی زرداری اور پاکستانی وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ صدر زرداری نے عراقی قیادت اور عوام کے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا اور عراق میں کامیاب پارلیمانی انتخابات پر مبارک باد دی۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان عراق کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی اتحاد کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور عراق کے استحکام، ترقی اور جمہوری عمل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں پاک-عراق دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ اعلیٰ سطحی رابطوں اور مشترکہ کمیشن کے اجلاس پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت اور دفاعی پیداوار میں تعاون بڑھانے پر زور دیا اور آئی ٹی، تعمیرات، ادویات اور متعلقہ صنعتوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر بھی بات چیت کی۔ انہوں نے بزنس ٹو بزنس روابط، تجارتی وفود کے تبادلے اور براہ راست بینکاری چینلز کے قیام کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مالیاتی سہولتیں ناگزیر ہیں۔
صدر مملکت نے عراق کی تعمیر نو میں پاکستان کے کردار کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان موجودہ مفاہمتی یادداشتوں کے تحت ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے طبی سہولیات، مالیاتی مہارت، ڈیجیٹل گورننس اور محفوظ ڈیٹا مینجمنٹ سمیت تکنیکی تجربات عراق کے ساتھ شیئر کرنے کی بھی پیش کش کی۔
صدر زرداری نے عراقی زیارات پر جانے والے پاکستانی زائرین کے لیے سہولتوں میں بہتری کا مطالبہ کیا اور زائرین مینجمنٹ ایم او یو کی جلد منظوری اور نفاذ پر زور دیا۔ انہوں نے غیر قانونی داخلے اور زائد قیام کی روک تھام کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان عراقی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کا حامی ہے۔
ملاقات میں دونوں صدور نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا اور سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا۔
عراقی صدر نے مسلم امہ کو متحد کرنے میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی تاریخی اور مسلسل حمایت کی تعریف کی۔






