سیاست ڈیڈلاک نہیں، بات چیت سے آگے بڑھتی ہے، رانا ثنا اللہ

0
531

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سیاست اور جمہوریت ڈیڈلاک سے نہیں بلکہ بات چیت اور ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہے، اور تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کو مسائل کے حل کے لیے آپس میں بیٹھنا چاہیے۔

اپنے ایک بیان میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف اکانومی کے لیے کوشش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ کابینہ اجلاس میں بھی واضح کیا کہ حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے، جبکہ اس سے قبل پی ٹی آئی کو چار مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی جا چکی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی چار سال اقتدار میں رہے، مگر اپنے دورِ حکومت میں کبھی اپوزیشن سے مذاکرات نہیں کیے۔ ان کا مؤقف رہا کہ وہ این آر او نہیں دیں گے اور نہ ہی ہاتھ ملانے یا ایک میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، اور اب بھی وہ مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے نہ سیاست کی اور نہ ہی چار سالہ دور میں سیاسی رویہ اپنایا۔ ان کی پالیسی میں بات چیت، مذاکرات اور مسائل کا حل شامل نہیں، بلکہ وہ فتنہ، فساد اور انارکی پر یقین رکھتے ہیں۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق سلمان اکرم راجہ اور علیمہ خان نے بھی وہی مؤقف دہرایا جو بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی آج بھی اپنی جماعت کو پیغامات دے رہے ہیں، اور ماضی میں 25 مئی 2022، 9 مئی اور 26 نومبر 2024 کے واقعات اسی پالیسی کا تسلسل تھے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ اگر ملاقاتوں کو کنٹرول نہ کیا جاتا تو رواں سال بھی فتنہ و فساد اور انارکی پھیلانے کا ارادہ تھا، اور ان کی منصوبہ بندی تصادم، افراتفری اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی بہانے سے اصل بات کو ادھر ادھر کرنا بانی پی ٹی آئی کی طے شدہ پالیسی ہے، اور اب 8 فروری 2026 کو پہیہ جام ہڑتال کی بات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فتنہ و فساد کو آہنی ہاتھوں سے روکا جائے گا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نواز شریف ایک سینئر سیاستدان ہیں جن کا طویل سیاسی سفر ہے اور انہوں نے ہمیشہ قومی مفاد میں کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق جب تمام فریقین بات چیت کے لیے ایک میز پر بیٹھیں گے تو ہی آگے بڑھنے کا راستہ نکلے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا