حکمران مقبولیت کے لیے مغرب نہیں، دینِ اسلام کی پیروی کریں: مولانا فضل الرحمان

0
597

سکھر: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو مقبولیت کے لیے مغرب کی پیروی کے بجائے دینِ اسلام کو اپنانا چاہیے۔

دستارِ فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مغرب اسلام کے علوم سے خوفزدہ ہے اور افسوس کہ ہمارے حکمران بھی اسی سوچ پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جسے خطرہ سمجھتا ہے، ہمارے حکمران بھی اُسے ہی خطرہ قرار دے دیتے ہیں، جبکہ صرف مسلمان ہونے پر شریعت کو الزام دینا صریح اسلام دشمنی ہے۔

انہوں نے شریعت سے نفرت پر مبنی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی آئینِ پاکستان سے بغاوت کے مترادف ہے، کیونکہ آئین میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے، نہ کہ اقوام متحدہ کی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ غیر اسلامی قانون سازی اللہ اور رسول ﷺ کے فیصلوں سے انحراف ہے، سودی نظام کے خاتمے کے وعدے کیے گئے مگر عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔

انہوں نے وفاقی شرعی عدالت کو کمزور کرنے کو آئینی وعدوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات ایوان میں پیش ہی نہیں کی جاتیں۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی آزادی اور دین پر سودا نہیں کیا، اسلام کے خلاف کسی کردار کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مدارس بھی رہیں گے، جدوجہد بھی جاری رہے گی اور پاکستان کو مکمل اسلامی ریاست بنانا ہی ہمارا مقصد ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا