قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں، ایسا ہوتا تو جیلیں خالی ہوتیں: سپریم کورٹ

0
524

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں ہوتے، اگر ہوتے تو جیلیں خالی ہوتیں۔

سپریم کورٹ نے مخالفین کے گھر اور جانور جلانے کے ملزم امجد علی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جس دوران جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ کیا واقعی گھر اور جانور جلائے گئے؟

پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ گھر اور جانور جلائے گئے، تاہم موقع سے گولیوں کے خول برآمد نہیں ہوئے۔ مدعی مقدمہ کے وکیل نے کہا کہ ملزم ہم سے پلاٹ خریدنا چاہتا تھا، پلاٹ نہ بیچنے پر گھر اور جانور جلائے گئے۔

جسٹس ملک شہزاد نے پوچھا کہ پولیس کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ تفتیش کیا کہتی ہے؟ پولیس نے جواب دیا کہ ملزم نے جرگے میں قرآن پر حلف دیا کہ کچھ نہیں کیا۔ جسٹس نے کہا کہ اگر فیصلے قرآن پر ہوتے تو جیلیں خالی ہو جاتیں، پولیس کو شواہد اکھٹے کرنے ہوتے ہیں۔

پولیس نے مزید کہا کہ ملزمان کے خلاف کسی نے گواہی نہیں دی، جس پر جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ اپنا گھر اور جانور خود کوئی نہیں جلاتا۔

ملزم امجد علی کے خلاف سکرنڈ کے علاقے میں رواں سال مارچ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا