کوالالمپور: ملائیشیا کے آرمی چیف جنرل تن سری محمد حافظ الدین جنتن کو کرپشن اور منی لانڈرنگ الزامات کی تحقیقات مکمل ہونے تک جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔
ملائیشیا کی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ فیصلہ تحقیقات کو شفاف اور بغیر کسی دباؤ کے آگے بڑھانے کے لیے کیا گیا۔ وزارت نے کہا کہ یہ ایک انتظامی اقدام ہے تاکہ مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے بچا جا سکے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک سماجی کارکن نے مسلح افواج کے ایک سینئر افسر پر منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے۔ اس کے بعد ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن نے ایکٹ 2009 کی دفعہ 17(a) کے تحت باضابطہ تحقیقات شروع کیں۔
اینٹی کرپشن حکام نے فوجی پروکیورمنٹ منصوبوں، خصوصاً اوپن ٹینڈر کے تحت ہونے والے معاہدوں کا جائزہ لیا۔ ابتدائی جانچ میں 2023 سے 2025 کے دوران 5 لاکھ رنگٹ سے زائد مالیت کے 158 منصوبے اور کم مالیت کے 4 ہزار سے زائد منصوبے سامنے آئے۔
تحقیقات میں بعض کمپنیوں کی جانب سے بار بار بڑے ٹھیکے حاصل کرنے پر بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ اب تک تین اعلیٰ فوجی افسران سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔
ادھر نیوی کمانڈر ایڈمرل تن سری ذوالحلمی اثنین کو ملائیشین مسلح افواج کا قائم مقام سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے جبکہ جنرل محمد نظام جعفر کی ریٹائرمنٹ کے بعد قیادت میں یہ عبوری تبدیلی کی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔





