ملکی مسائل کا حل انتہا پسندی نہیں، مفاہمت اور سیاسی استحکام ہے: بلاول بھٹو زرداری

0
506

لاڑکانہ: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز کا حل انتہا پسندانہ سیاست نہیں بلکہ مفاہمت، جمہوری رویے اور سیاسی استحکام میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو انتہا پسندی ترک کر کے جمہوری حدود میں واپس آنا چاہیے، کیونکہ حقیقی ترقی اور پائیدار استحکام اسی راستے سے ممکن ہے۔

لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت کو معاشی بحران اور مالی گنجائش کے مسائل حل کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت سنجیدگی سے فسکل اسپیس کے مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اس حوالے سے سندھ حکومت کے تجربات سے سیکھنا چاہیے، کیونکہ سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ماڈل نہ صرف کامیاب رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے سراہا گیا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے بتایا کہ سندھ حکومت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو عالمی جریدے ’’اکانومسٹ‘‘ نے خطے میں چھٹا نمبر دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ماڈل وفاقی سطح اور دیگر صوبوں میں بھی مؤثر طور پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہید بے نظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش آئے، تاہم یہ ملاقات صرف برسی کے حوالے سے تھی اور اس میں کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی مسائل کا حل سیاست کے ذریعے نکالنا چاہیے۔ اگر سیاسی قوتیں مل کر ایسا ماحول بنائیں جس سے جمہوری سیاست کے لیے مزید گنجائش پیدا ہو تو یہ پاکستان اور عوام کے مفاد میں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی مشکلات اور قومی سلامتی جیسے بڑے مسائل کا طویل المدتی حل کسی ایک جماعت کی طویل حکمرانی نہیں بلکہ پائیدار سیاسی استحکام ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ شہید بے نظیر بھٹو کی برسی پر انہی کے نظریے اور منشور کے مطابق بات کر رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کا سیاسی پیغام مفاہمت پر مبنی تھا اور آج بھی پاکستان کو اسی سوچ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاست انتہا پسندی پر مبنی ہوگی تو اس کے ردعمل میں سختی پر شکایت نہیں ہونی چاہیے اور کسی گرفتاری یا قانونی کارروائی کے جواب میں قومی اداروں پر حملے درست نہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پارٹی کے تجربے اور تاریخ کی روشنی میں ان کی واضح تجویز یہی ہے کہ پی ٹی آئی انتہا پسندانہ سیاست ترک کرے اور جمہوری دائرے میں واپس آئے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف پی ٹی آئی اور اس کے کارکنوں بلکہ ملک کی مجموعی جمہوری سیاست کے لیے بھی بہتر ثابت ہوگا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا