اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں کینسر کی تشخیص اور علاج کے لیے قائم کیے گئے کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی (کنور) کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر کوئی کام نہیں اور کینسر کے مریضوں کے لیے مقامی سطح پر علاج کی سہولت ایک بڑی نعمت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں آزاد کشمیر کے کینسر کے مریضوں کو علاج کے لیے سینکڑوں میل کا سفر کرنا پڑتا تھا جو نہ صرف تکلیف دہ بلکہ مالی طور پر بھی بوجھ تھا۔ انہوں نے اس منصوبے میں کردار ادا کرنے پر پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن، اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن، مخیر حضرات اور ڈاکٹرز کا شکریہ ادا کیا۔
شہباز شریف نے بتایا کہ وہ خود بھی کینسر کے مرض سے گزر چکے ہیں، اس لیے مریضوں کی جسمانی اور ذہنی تکالیف کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ علاج فراہم کیا جائے اور مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ اور احترام پر مبنی رویہ اپنایا جائے۔
وزیراعظم نے افتتاح کے بعد اسپتال اور میڈیکل کالج کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور فراہم کی جانے والی تشخیصی و علاج کی سہولیات پر بریفنگ لی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ آزاد کشمیر میں اس سے قبل کینسر کے علاج کی کوئی باقاعدہ سہولت موجود نہیں تھی اور ہر سال تقریباً ایک ہزار نئے جبکہ دس ہزار فالو اپ مریض علاج کے لیے رجوع کرتے ہیں۔
تقریب سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور 2050 تک اس میں 75 فیصد اضافے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں کینسر اسپتال کے قیام کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔






