ڈھاکا میں بنگلہ دیشی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ معروف طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کے مبینہ قاتل حملے کے بعد بھارت فرار ہو گئے، جبکہ بھارتی پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
سینئر پولیس افسر نذرالاسلام کے مطابق یہ قتل ایک منصوبہ بند کارروائی تھی۔ حملہ آور 12 دسمبر کو واقعے کے فوراً بعد ہالوگاٹ سرحد کے راستے بھارت پہنچے، جہاں دو بھارتی شہریوں نے انہیں میگالایا منتقل کیا۔ بنگلہ دیشی تفتیش کار بھارتی حکام سے رابطے میں ہیں اور میگالایا پولیس نے دو افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
یاد رہے کہ شریف عثمان ہادی، جو طلبہ تحریک کے نمایاں رہنما تھے، ڈھاکا میں فائرنگ کے واقعے کے بعد سنگاپور میں دورانِ علاج جاں بحق ہو گئے تھے۔ ان کے قتل پر ملک بھر میں احتجاج جاری ہے، جبکہ اس واقعے کے بعد بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں بھی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔






