سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے کراچی کے تین اضلاع — شرقی، وسطی اور جنوبی — میں عمارتوں کا سروے شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی جائزے میں 90 فیصد عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
رہائشی اور تجارتی عمارتوں کا فائر آڈٹ شروع کیا گیا اور ایس بی سی اے نے 300 سے زائد عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے پر نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ نوٹسز میں مالکان کو تین روز کے اندر فائر سیفٹی انتظامات مکمل کرنے کا کہا گیا ہے۔
ایس بی سی اے حکام کے مطابق بعض عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات ناکارہ پائے گئے جبکہ کئی بلند عمارتوں میں ہنگامی اخراج کے راستے بند یا موجود ہی نہیں تھے۔ سروے کے دوران ایس بی سی اے کی خصوصی ٹیم کے ساتھ فائر بریگیڈ کا عملہ بھی موجود تھا۔
حکام نے کہا کہ نوٹسز پر عمل نہ کرنے والی عمارتوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تین روز میں فائر سیفٹی اقدامات نہ کرنے پر عمارتیں سیل کر دی جائیں گی اور مالکان و یونینز کو فائر سیفٹی اقدامات کے ساتھ فائر بریگیڈ کا این او سی بھی حاصل کرنا ہوگا۔ عمارتوں کو سیل کرنے کا کام ضلعی انتظامیہ کی مدد سے مکمل کیا جائے گا۔
مزید یہ کہ بھسم شدہ عمارت گل پلازہ کی صفائی کا عمل 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے، اور اب تک 71 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔






