ایران کے مشہور تجارتی مرکز بندرگاہ بندرعباس میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے ہیں جن میں جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق خلیج فارس کے ساحلی شہر بندر عباس میں واقع ایک 8 منزلہ رہائشی عمارت کے دو فلورز میں دھماکہ ہوا، جس میں اب تک ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں متعدد گاڑیاں اور دکانیں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔
ایرانی حکام نے بتایا کہ دھماکے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ ہر پہلو سے واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اسی دوران ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان کے شہر اہواز میں بھی ایک دھماکہ ہوا، جس میں چار افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس واقعے کی نوعیت ابتدائی طور پر حادثاتی معلوم ہوتی ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔
یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے ہیں جب اسرائیل اور امریکا نے ایران کے جوہری معاہدے کے مذاکرات کے لیے شدید فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ امریکا کا ایک بڑا جنگی بحری بیڑہ آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں میں مصروف ہے جبکہ میزائل بردار جہاز ایلات میں لنگر انداز ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اسرائیلی حکام نے دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کی اور کہا کہ ایران میں ہونے والے دھماکوں سے اسرائیل کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی دفاعی کارروائی کے لیے ہر وقت چوکنا ہیں اور کسی بھی جارحیت کا فوری اور مضبوط جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
امریکا کی جانب سے ابھی تک ایران میں دھماکوں کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، حالانکہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو ڈیڈ لائن دی تھی۔ ایران نے بھی ابھی تک ان دھماکوں کی ذمہ داری کسی بھی ملک پر عائد نہیں کی۔
یہ واقعہ عالمی توجہ حاصل کر چکا ہے اور خطے میں سیاسی و فوجی کشیدگی میں اضافہ کر سکتا ہے۔






