اسلام آباد / پشاور: پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی مبینہ بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان نے ’آپریشن غضب للحق‘ شروع کر دیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے مختلف سرحدی مقامات پر فائرنگ کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ناوگئی (باجوڑ)، تیراہ (خیبر)، چترال، مہمند اور کرم سیکٹرز میں بھرپور جوابی کارروائی کی۔ ذرائع کے مطابق متعدد چوکیاں اور ٹھکانے تباہ کیے گئے جبکہ درجنوں جنگجوؤں کے ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر جھڑپیں تاحال جاری ہیں جبکہ ڈرونز اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی بھی اطلاعات ہیں۔
باجوڑ میں سول آبادی متاثر
سکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ کے علاقے لغڑئی اور گرد و نواح میں مارٹر گولے گرنے سے خواتین سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو خار اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایک مسجد کی عمارت کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
فضائی کارروائی کا دعویٰ
رائع کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ نے ننگرہار میں ایک مبینہ اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا جبکہ مزید کارروائیوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ افغان حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سرکاری مؤقف
وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے خیبر پختونخوا کے مختلف سیکٹرز میں بلااشتعال فائرنگ کی جس کا مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان اپنے عوام کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور افغانستان کو ایک پرامن ہمسایہ بننا ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان اور بعض بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
سیاسی قیادت کا ردعمل
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر افغان طالبان کارروائی نہیں کریں گے تو پاکستان دہشت گردوں کے خلاف خود اقدام کرے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے قومی یکجہتی اور سرحدوں کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا۔





