افغانستان کے حملے پر آپریشن غضب للحق: 133 طالبان ہلاک، فوجی ہیڈکوارٹرز، ٹینک، توپ خانے، چوکیاں تباہ

0
3145

اسلام آباد / پشاور: افغان طالبان کی مبینہ بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان کا ’آپریشن غضب للحق‘ جاری ہے۔ سرکاری اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق جوابی کارروائیوں میں 133 افغان طالبان جنگجو ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ متعدد فوجی تنصیبات، ٹینک، توپ خانے اور چوکیاں تباہ یا قبضے میں لے لی گئیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں فائرنگ کے بعد پاکستان نے مختلف سیکٹرز میں زمینی اور فضائی کارروائیاں کیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 27 چوکیاں مکمل تباہ جبکہ 9 پر قبضہ کیا گیا، اس کے علاوہ درجنوں بکتربند گاڑیاں، ٹینک اور آرٹلری گنز بھی نشانہ بنائی گئیں۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

فضائی حملوں کی تصدیق

افغان طالبان کے ترجمان نے کابل، پکتیا اور قندھار میں بمباری کی تصدیق کی ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق رات گئے مختلف فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ننگرہار میں ایک بڑا اسلحہ ڈپو بھی تباہ کیا گیا۔

ڈرون حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں مبینہ طور پر چھوٹے ڈرون حملوں کی کوشش کی گئی جسے اینٹی ڈرون سسٹم نے ناکام بنا دیا۔ ان کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

سرحدی جھڑپیں اور زمینی پیش قدمی

ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان کے مقابل پکتیا میں متعدد پوسٹوں پر قبضے کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ انگور اڈہ ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مزید کہا گیا کہ بعض افغان اہلکار مورچے چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے۔

سول آبادی متاثر

باجوڑ کے علاقے لغڑئی میں مارٹر گولے گرنے سے خواتین سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو خار اسپتال منتقل کیا گیا۔ ایک مسجد کی عمارت کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

حکومتی مؤقف

ترجمان وزیر اعظم برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی کے مطابق پاکستان کی کسی پوسٹ پر قبضہ نہیں ہوا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اپنی سالمیت اور سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

عالمی ردعمل

روسی دفتر خارجہ نے پاکستان اور افغانستان پر فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش کی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا