ماہرین نے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے سورج کی توانائی کو رات کے وقت بھی استعمال کرنا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق چینی سائنسدانوں نے لکڑی کی اندرونی ساخت میں تبدیلی کرکے اسے ایک ایسے مسام دار مادے میں تبدیل کیا ہے جو سورج کی روشنی کو جذب کرکے حرارت ذخیرہ کر سکتا ہے اور بعد میں اسے بجلی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یہ تحقیق جریدے ایڈوانسڈ انرجی میٹریلز میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ اس طریقہ کار سے سولر توانائی کی سب سے بڑی کمزوری یعنی رات کے وقت بجلی کی عدم دستیابی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
سائنسدانوں نے اس مقصد کے لیے ہلکی اور نرم بالسا ووڈ استعمال کی، جس کی قدرتی ساخت میں تبدیلی کر کے اسے روشنی جذب کرنے کے قابل بنایا گیا۔ بعد ازاں اس میں مختلف جدید مواد جیسے سیاہ فاسفورسین کی باریک تہیں اور نینو ذرات شامل کیے گئے تاکہ توانائی کو مؤثر طریقے سے ذخیرہ اور خارج کیا جا سکے۔
مزید یہ کہ لکڑی میں stearic ایسڈ شامل کیا گیا جو حرارت کو محفوظ رکھ کر ٹھنڈا ہونے پر خارج کرتا ہے، جس سے رات کے وقت بھی بجلی پیدا کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔
تحقیق کے دوران اس جدید مادے نے تقریباً 91.2 فیصد سورج کی روشنی کو حرارت میں تبدیل کیا، جو بعد میں بجلی پیدا کرنے کے کام آئی۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، تاہم اگر اس پر مزید تحقیق کامیاب رہی تو مستقبل میں بغیر مہنگی بیٹریز کے رات کے وقت بھی سولر توانائی استعمال کی جا سکے گی۔






