کراچی: سید مراد علی شاہ نے گندم خریداری پالیسی میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے گندم فروخت کی حد ختم کر دی ہے اور خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت گندم خریداری سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزراء، اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں گندم خریداری مہم کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ چھوٹے آبادگار اب بغیر کسی پابندی کے اپنی گندم فروخت کر سکیں گے، جبکہ فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط فوری طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا اور انہیں اپنی پیداوار بہتر طریقے سے فروخت کرنے کا موقع ملے گا۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خوراک نے بتایا کہ یکم اپریل سے شروع ہونے والی خریداری مہم کے تحت صوبے کا ہدف 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم حاصل کرنا ہے، جبکہ اب تک تقریباً 8 ہزار 958 میٹرک ٹن گندم خریدی جا چکی ہے۔ امدادی قیمت 40 کلو گندم کے لیے 3500 روپے مقرر کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ آبادگاروں کو ادائیگیاں فوری اور شفاف انداز میں یقینی بنائی جائیں۔ حکام کے مطابق ادائیگیوں کا نظام تیز کر دیا گیا ہے اور کسانوں کو رقم ایک دن کے اندر Sindh Bank کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہے، جبکہ اب تک 198.3 ملین روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
مراد علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ بروقت ادائیگی کسانوں کے اعتماد کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس عمل میں کسی قسم کی بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کم خریداری والے اضلاع میں اقدامات سخت کیے جائیں اور ضلعی انتظامیہ خریداری مراکز کی نگرانی کو یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ کسانوں کی سہولت کے لیے مزید 12 خریداری مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ گندم خریداری مہم نہ صرف کسانوں کی مدد بلکہ صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھی انتہائی اہم ہے، اور حکومت ہاریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔






