گلگت بلتستان کے مسائل دیکھ کر دل دکھی ہے، ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنا ہوگا: نواز شریف

0
306

گلگت: صدر مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبے شروع تو کیے جاتے ہیں لیکن انہیں مکمل نہیں کیا جاتا، جبکہ علاقے کی سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی صورتحال دیکھ کر انہیں شدید دکھ ہوا ہے۔

گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ وہ ماضی میں کئی بار گلگت اور اسکردو کا دورہ کر چکے ہیں اور چاہتے تھے کہ یہ خطہ ترقی کی نئی منازل طے کرے، تاہم آج بھی کئی بنیادی مسائل برقرار ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مانسہرہ سے گلگت تک سڑک کا منصوبہ کیوں مکمل نہیں کیا گیا اور عوامی فلاح کے لیے مختص وسائل کہاں خرچ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی جماعت پر تنقید نہیں کرنا چاہتے لیکن عوام کو جواب ملنا چاہیے کہ اہم منصوبے کیوں نظر انداز کیے گئے۔

نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان میں اسپتال، ہائیڈل پاور منصوبے اور دیگر ترقیاتی منصوبے مکمل کیے، جبکہ دوسری جماعتیں اپنی کارکردگی دکھائیں کہ انہوں نے علاقے کے لیے کیا کیا۔

انہوں نے کہا کہ گلگت ایئرپورٹ کو مزید توسیع دی جانی چاہیے تاکہ بڑے طیارے بھی یہاں اتر سکیں۔ اس سلسلے میں وہ وزیراعظم شہباز شریف سے بات کریں گے تاکہ فضائی سہولیات میں اضافہ کیا جا سکے۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پانی، دھوپ اور قدرتی وسائل کی فراوانی کے باوجود توانائی کا بحران موجود ہے، جو قابلِ افسوس ہے۔ ان کے مطابق اگر ان کی جماعت کو موقع ملا تو بجلی، سڑکوں، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خصوصی توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے نوجوانوں کے لیے بلاسود قرضوں، طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ اسکیم، جبکہ خواتین کے لیے الگ یونیورسٹی کے قیام کا وعدہ بھی کیا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے ان کی حکومت نے زمینوں کے حصول کی مد میں 100 ارب روپے فراہم کیے تھے، لیکن منصوبہ آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا تسلسل برقرار رہتا تو کئی اہم منصوبے مکمل ہو چکے ہوتے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا