سندھ رینجرز کیمپ حملہ: سات روز قبل افغانستان سے پاکستان آئے، گرفتار دہشتگرد کا دعویٰ

0
426

کراچی: پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر حملے میں زخمی حالت میں گرفتار دہشت گرد نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔ حکام کے مطابق ملزم نے اپنی شناخت عثمان علی کے نام سے کراتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے پاکستان آیا تھا۔

حکام کے مطابق گرفتار ملزم نے بتایا کہ حملے میں اس کے ساتھ عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق بھی شریک تھے، جن میں سے عبدالہادی مارا جا چکا ہے۔ اس کے دعوے کے مطابق رینجرز کیمپ پر بم جانان نے پھینکا جبکہ حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لایا تھا۔

ملزم نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سات روز قبل پاکستان میں داخل ہوا اور انہیں ایک زیرِ تعمیر عمارت میں ٹھہرایا گیا۔ فرار کے دوران گولی لگنے کے باعث وہ زخمی حالت میں گرفتار ہوگیا۔

حکام کے مطابق گرفتار شخص نے کالعدم تنظیم جماعت الاحرار سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں انہیں خودکش جیکٹ بنانے، دھماکا خیز مواد استعمال کرنے اور دیگر عسکری تربیت دی گئی، جبکہ تربیت دینے والے شخص کا نام عمر قاری اور تنظیمی کمانڈر کا نام احرار مولوی بتایا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کراچی میں حملے کی تمام منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی اور ابتدا میں انہیں فوج اور رینجرز کے فرق کا علم نہیں تھا، بعد میں رینجرز کو ہدف بنانے کی ہدایت دی گئی۔

دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تفتیش میں سامنے آنے والے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ سرحد پار سے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی جاتی رہی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا