بلوچستان میں 4 روز میں 54 دہشتگرد ہلاک، 42 شہادتیں ہوئیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

0
516

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشتگردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن کے خلاف سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں 54 دہشتگرد ہلاک جبکہ وطن کے دفاع میں 42 اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔

بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردوں نے معصوم شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا، تاہم بلوچستان کے عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کے عزائم ناکام بنائے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلا حملہ ہنہ اوڑک میں، دوسرا مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن کے قریب پولیس چیک پوسٹ پر جبکہ تیسرا واقعہ بیلہ میں فوجی قافلے پر حملے کی صورت میں پیش آیا۔ ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشتگرد مارے گئے، جبکہ خاران اور دالبندین میں بھی انٹیلی جنس آپریشنز کے دوران متعدد دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ کارروائیوں میں مارے جانے والے متعدد دہشتگرد افغان شہری تھے اور انہیں سہولت کاری بھی افغانستان سے فراہم کی جا رہی تھی۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست ہر دہشتگرد اور اس کے سہولت کار کا تعاقب کرے گی، غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، اور پاکستان کو کوئی طاقت دھمکا نہیں سکتی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہر قیمت پر جاری رہے گی اور سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام مل کر اس ناسور کا مکمل خاتمہ کریں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا