اسلام آباد (پارلیمانی رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے پمز سانحے پر سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تحقیقاتی نظام کا خاتمہ کیا جائے جس میں ادارے خود ہی اپنے معاملات کی تحقیقات کرتے ہیں، جبکہ سانحے سے متعلق اہم سوالات کے واضح جوابات عوام کے سامنے لائے جائیں۔
شیری رحمان نے سوال اٹھایا کہ سی ڈی اے کی رپورٹ اور پمز کی رپورٹ میں تضاد کیوں پایا گیا؟ اسپتال کو فائر سیفٹی کے مناسب پروٹوکولز نصب کرنے کے لیے بھیجے گئے، یاددہانی خطوط کو کیوں نظر انداز کیا گیا، اور اسپتال میں اس سے قبل پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعات پر توجہ کیوں نہیں دی گئی؟
انہوں نے کہا کہ سانحے کے روز انہیں اسپتال کی صورتحال کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کی گئیں۔ ان کے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ ایمرجنسی ایگزٹس کھلے تھے، تاہم حقیقت میں وہ کھلے نہیں تھے۔
شیری رحمان نے کہا کہ وہ 2008 میں چھ ماہ تک وزیرِ صحت رہ چکی ہیں اور اس عرصے کے دوران انہوں نے کبھی ایمرجنسی راستوں کو لاک کرنے کی اجازت نہیں دی، بلکہ ان راستوں پر سکیورٹی گارڈز تعینات کیے جاتے تھے تاکہ ضرورت کے وقت انہیں فوری طور پر استعمال کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ 22 ارب روپے کے بجٹ کے باوجود اداروں میں بنیادی حفاظتی انتظامات کیوں یقینی نہیں بنائے جا سکے؟ ان کا کہنا تھا کہ سانحے کی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے اور یہ بھی بتایا جائے کہ سیکریٹری کے علاوہ کس کے خلاف کارروائی یا احتساب کیا گیا۔
شیری رحمان نے مطالبہ کیا کہ سینیٹ عوامی مفاد کی سیاست پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اپنی خصوصی کمیٹی تشکیل دے، جو پی آئی ایم ایس کے انتظام، حفاظتی انتظامات اور سانحے سے متعلق تمام پہلوؤں کی جامع تحقیقات کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ “ہم عوام کے خادم ہیں، حکمران نہیں۔” انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹس کو دبا دینا اور سانحات کو وقت کے ساتھ بھلا دینا قابل قبول نہیں، اس کلچر کو معمول نہیں بننے دیا جا سکتا۔
شیری رحمان نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاستی ادارے اپنی تمام تر صلاحیتیں پاکستان کے عوام کی حقیقی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں۔





