نئے صوبے عوام کی مرضی سے بننے چاہئیں، فیصلہ مسلط نہیں ہوگا: محسن نقوی

0
329

لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت ختم نہیں ہوگی اور سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے سندھی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا، انتظامی تقسیم کا مقصد بہتر حکمرانی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی ہونا چاہیے۔

لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کو 79 سال بعد بھی وہ مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے جن کی توقع کی جارہی تھی، اس لیے نظام کا جائزہ لے کر اسے ری سیٹ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کا مقصد کسی حکومت یا سیاسی جماعت کو تبدیل کرنا نہیں بلکہ نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نظام کی ری سیٹنگ کی مختلف تشریحات کی گئیں اور اسے موجودہ حکومت یا سیاسی بندوبست سے جوڑا گیا، تاہم ان کی بات کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت کے بارے میں نہیں تھی۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ تعلیم، صحت، صاف پانی اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات ہر شہری کو ملنی چاہئیں۔ نظام میں بہتری اور عوامی خدمات کی بہتر فراہمی ہی سے لوگوں کے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نظام میں تبدیلی آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور سیاسی اتفاق رائے سے ہونی چاہیے۔ نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت کی مرضی سے نہیں بلکہ عوام کی خواہش کے مطابق ہونا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتی ہے تو انہیں بنایا جانا چاہیے اور اگر عوام نہیں چاہتی تو کسی صورت یہ فیصلہ مسلط نہیں ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں عوام کو آئین کی جانب سے دیا گیا حق تسلیم کرنا ہوگا۔

محسن نقوی نے آبادی میں اضافے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ایک خاندان بڑھتا ہے تو ایک گھر کے بجائے مزید گھروں کی ضرورت پڑتی ہے، اسی طرح آبادی اور ضروریات بڑھنے کے ساتھ انتظامی ڈھانچے میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے معاملے میں موجود اضطراب ختم کرنا ہوگا، تاہم کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے اسلام آباد کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) میں حصہ نہ ملنے کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ پاکستان کے ہر شہری کو این ایف سی میں حق ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق اسلام آباد کا نظام اپنی زمینیں فروخت کرکے چلایا جارہا ہے اور شہر کو قومی بجٹ سے براہ راست حصہ نہیں ملتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بننے ہیں تو اسلام آباد کو بھی صوبے کا درجہ دینے کے مطالبے پر غور ہونا چاہیے۔ انتظامی حدود کی ازسرنو تشکیل کے معاملے پر وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے، تاہم اس بارے میں سیاستدانوں سے زیادہ عوام کی رائے اہم ہے۔

محسن نقوی نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس نسل، زبان یا برادری کی بنیاد پر نہیں بلکہ بہتر حکمرانی کے لیے قائم ہونے چاہئیں۔ جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی شناخت ختم نہیں ہوگی اور سندھ میں نئے انتظامی یونٹس بننے سے سندھی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا۔

انہوں نے کہا کہ انتظامی تقسیم کا مقصد حکومتوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرکے حکمرانی کا نظام بہتر بنانا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کے نقشے یا منصوبے پہلے سے طے نہیں ہونے چاہئیں بلکہ پاکستان کے مفاد میں جو فیصلہ عوام اور سیاسی اتفاق رائے سے ہوگا، اسے سب کو تسلیم کرنا چاہیے

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا