حکومت کی اپوزیشن کو مذاکرات کی بار بار پیشکش، نتائج سے خالی کیوں؟

0
4

عمران رشید

پاکستان میں سیاسی درجۂ حرارت بڑھتا ہے تو حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت سنائی دیتی ہے۔ کچھ عرصے بعد اجلاس بھی ہو جاتا ہے، کمیٹیاں بنتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں، مگر سیاسی کشیدگی اپنی جگہ رہتی ہے۔ حالیہ حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مذاکرات بھی اسی سلسلے کی مثال ہیں۔ اکتوبر 2026 کے آغاز میں دونوں فریق قریب تین برس بعد باضابطہ طور پر مذاکرات کی میز پر آئے، لیکن چند ہی نشستوں میں بات تعطل کا شکار ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ جب دونوں جانب سے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنے کے دعوے کیے جاتے ہیں تو نتیجہ کیوں نہیں نکلتا؟اس کا ایک جواب یہ ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کو مسئلے کے حل سے زیادہ اپنی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ حکومت کے لیے مذاکرات کا اعلان یہ دکھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے کہ اس نے مفاہمت کی کوشش کی اور اب اگلا قدم اپوزیشن کو اٹھانا ہے۔ اپوزیشن کے لیے مذاکرات میں شرکت یہ پیغام دے سکتی ہے کہ وہ سیاسی عمل سے باہر نہیں، مگر اس کے مطالبات تسلیم نہ ہوں تو وہ عوامی احتجاج جاری رکھ سکتی ہے۔ یوں فریق میز پر بھی رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

ایسی گفتگو میں اعتماد کم اور سیاسی حساب کتاب زیادہ ہو تو پیشکشیں تو بار بار ہوتی ہیں، مگر سمجھوتا نہیں بنتا۔حالیہ تعطل میں بنیادی اختلافات بھی واضح تھے۔ حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے 3 اکتوبر کو پارلیمان میں ملے۔ اگلے مرحلے کی طویل نشست بھی کسی مشترکہ نتیجے تک نہ پہنچ سکی۔ پی ٹی آئی نے عمران خان تک رسائی اور انہیں مذاکرات میں شامل کرنے کو اہم شرط قرار دیا، جبکہ مذاکرات میں خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات پر تعاون کا معاملہ بھی اختلاف کا سبب بنا۔ 4 اکتوبر کو طے شدہ احتجاجی مارچ روکنے کے لیے ہونے والی بات چیت بھی ناکام رہی۔ فریقین نے ناکامی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا: حکومت کے بعض رہنماؤں نے اپوزیشن یا صوبائی حکومت کو غیر سنجیدہ قرار دیا، جبکہ پی ٹی آئی نے حکومت پر اپنے مطالبات کے لیے آمادگی نہ دکھانے کا الزام لگایا۔

یہ اختلاف صرف چند نکات کی فہرست کا نہیں، اعتماد کے بحران کا بھی ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عمران خان کے بغیر کوئی بامعنی سیاسی مکالمہ ممکن نہیں؛ حکومت کے لیے یہ شرط قبول کرنا سیاسی طور پر مشکل ہوسکتا ہے، خصوصاً جب خان قید میں ہیں اور ان کے خلاف مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن سمجھتی ہے کہ اس کے قائد تک رسائی اور سیاسی قیدیوں کا معاملہ نظرانداز کر کے مذاکرات سے حقیقی مفاہمت نہیں ہوسکتی۔ یوں دونوں طرف کے لیے بنیادی سوال یہ بن جاتا ہے کہ پہلے قدم کون اٹھائے: حکومت مطالبات پر رعایت دے یا اپوزیشن احتجاج مؤخر کر کے مذاکرات پر بھروسا کرے؟ اگر دونوں فریق پہلے ضمانت چاہتے ہوں تو عمل شروع ہونے سے پہلے ہی رک جاتا ہے۔مذاکرات کی ایک اور کمزوری یہ ہے کہ ان کا مقصد واضح نہیں ہوتا۔ کیا نشست کا مقصد صرف مارچ رکوانا ہے؟ سیاسی قیدیوں، عدالتی عمل اور سیاسی حقوق پر بات کرنی ہے؟ انتخابی تنازعات، پارلیمان کی خودمختاری اور حکومت کی مدت جیسے بڑے معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے؟

جب ایجنڈا محدود یا مبہم ہو تو ہر فریق اپنی توقعات لے کر آتا ہے، اور ایک دوسرے کی بات کو نیک نیتی کے بجائے سیاسی چال سمجھتا ہے۔ حکومت اگر صرف فوری احتجاج روکنے کے لیے مذاکرات کرے اور اپوزیشن اسے اپنے بڑے مطالبات منوانے کا موقع سمجھے تو دونوں کی منزلیں مختلف رہتی ہیں۔اس عمل میں حکومت کی پیشکش کی ساکھ بھی اہم ہے۔ اپوزیشن کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ حکومت جو وعدہ کرے گی، اسے پورا کرنے کی سیاسی اور آئینی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر کمیٹی کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار نہ ہو، یا اہم معاملات پر وہ صرف “اوپر سے منظوری” کی منتظر ہو، تو مذاکرات نتیجہ خیز نہیں بن سکتے۔ اسی طرح اپوزیشن کو بھی واضح کرنا ہوتا ہے کہ وہ کن مطالبات پر سمجھوتے کے لیے تیار ہے۔ صرف مطالبات پیش کرنا کافی نہیں؛ یہ بھی بتانا پڑتا ہے کہ ان میں ترجیح کیا ہے، کون سا قدم پہلے اٹھے گا اور بدلے میں کیا یقین دہانی دی جائے گی۔اس کے ساتھ یہ مسئلہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں عوامی بیانیے میں اپنے حامیوں کو سخت مؤقف پر تیار کرتی ہیں۔

پھر مذاکرات میں رعایت دینا انہیں کمزوری یا پسپائی دکھائی دے سکتا ہے۔ حکومت اگر اپوزیشن کو کوئی ریلیف دے تو اسے اپنے اتحادیوں یا حامیوں کی مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے؛ اپوزیشن اگر احتجاج روک دے تو اس کے کارکن اسے دباؤ کی سیاست سے پیچھے ہٹنا سمجھ سکتے ہیں۔ اس خوف سے سیاست دان ایسے معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں جس میں وہ کچھ نہ کھوئیں—اور ایسا معاہدہ اکثر ممکن ہی نہیں ہوتا۔ حقیقی سمجھوتے میں دونوں طرف کو کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے۔پاکستان میں مذاکرات کی ناکامی کا ایک سبب سیاسی مکالمے کا غیر مستقل رہنا بھی ہے۔ گفتگو اکثر بحران کے عروج پر شروع ہوتی ہے: احتجاج قریب ہو، سڑکیں بند ہونے کا خدشہ ہو، یا سیاسی محاذ آرائی میں فوری کمی مطلوب ہو۔ لیکن جب فوری خطرہ ٹلتا دکھائی دے تو فریق دوبارہ اپنے سخت مؤقف کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ مستقل سیاسی مکالمے کے بجائے ہنگامی اجلاس منعقد ہوتے ہیں، جن کا دورانیہ بھی مختصر اور نتائج بھی غیر یقینی رہتے ہیں۔

اس طرزِ عمل سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پیشکش کا مقصد مسئلہ حل کرنا نہیں بلکہ وقتی طور پر دباؤ کم کرنا ہے۔اس کے باوجود مذاکرات کو بے فائدہ قرار دینا درست نہیں۔ حالیہ بات چیت میں فریق آمنے سامنے بیٹھے، اختلافات کی نوعیت واضح ہوئی اور یہ بھی سامنے آیا کہ کن موضوعات پر کم از کم ابتدائی گفتگو درکار ہے۔ لیکن رابطہ ہونا کامیابی نہیں؛ کامیابی اس وقت ہوگی جب کسی تحریری یا قابلِ تصدیق سمجھوتے پر اتفاق ہو، عمل درآمد کی ذمہ داری واضح ہو، اور اختلاف پیدا ہونے پر دوبارہ بات چیت کا طریقہ موجود ہو۔ محض مشترکہ تصویر، نرم لہجے کا بیان یا اگلی نشست کا وعدہ سیاسی بحران ختم نہیں کرتا۔آگے بڑھنے کے لیے سب سے پہلے ایک محدود مگر واضح ایجنڈا طے کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، سیاسی رہنماؤں اور وکلا تک قانونی رسائی، احتجاج کے دوران تشدد سے گریز، پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تنازعات پر گفتگو، اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر وفاق و صوبے کے درمیان قابلِ عمل تعاون۔ ہر نکتے کے لیے الگ وقت، ذمہ دار فریق اور پیش رفت جانچنے کا طریقہ مقرر ہو۔ ایسے معاملات کو عدالتی کارروائی سے الگ رکھنے کی ضرورت بھی واضح کی جائے، تاکہ سیاسی مذاکرات عدالتوں کے فیصلوں میں مداخلت کا تاثر نہ دیں۔

دوسرا، دونوں طرف کو فوری اور محدود اعتماد سازی کے اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت قانونی دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی قیادت اور وکلا کی ملاقاتوں میں سہولت دے سکتی ہے؛ اپوزیشن احتجاجی حکمتِ عملی میں ایسا راستہ اختیار کر سکتی ہے جس سے مذاکرات جاری رہ سکیں اور شہری زندگی مفلوج نہ ہو۔ یہ اقدامات کسی ایک فریق کی مکمل فتح نہیں، بلکہ گفتگو کو ممکن بنانے کی بنیاد ہیں۔ اس عمل میں پارلیمان کے اسپیکر یا کسی ایسے متفقہ ثالث کا کردار مددگار ہوسکتا ہے جس پر دونوں فریق اعتماد کرتے ہوں۔آخرکار بار بار کی مذاکراتی پیشکشوں کے نتائج سے خالی رہنے کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ پاکستانی سیاست دان بات کرنا نہیں جانتے۔ اصل مشکل یہ ہے کہ وہ اکثر مذاکرات کو مشترکہ حل کے بجائے سیاسی دباؤ، جواز یا وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جب تک حکومت کی دعوت کے ساتھ فیصلے کا اختیار، اپوزیشن کے مطالبات کے ساتھ قابلِ عمل ترجیحات، اور دونوں جانب سمجھوتے کی گنجائش نہیں ہوگی، مذاکرات کی میز بار بار لگے گی مگر سیاسی تعطل قائم رہے گا۔ پاکستان کو اس وقت ایسی مفاہمت درکار ہے جو صرف احتجاج روکنے تک محدود نہ ہو، بلکہ آئینی طریقۂ کار، سیاسی حقوق اور اختلاف کے پُرامن حل کے لیے قابلِ اعتماد اصول قائم کرے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا