تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری
کسی بھی ریاستی ادارے کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہوتا کہ اس نے کتنے چھاپے مارے اور کتنے افراد گرفتار کیے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی کارروائی نے قانون کی حرمت کو کتنا مضبوط کیا اور شہریوں کے اعتماد کو کتنا بڑھایا۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے کال سینٹرز پر ہونے والے حالیہ چھاپے اسی کسوٹی پر پرکھے جائیں تو سوالات کا ایک طویل سلسلہ عیاں ہو جاتا ہے جن کا جواب اب تک نہ تو ادارے کے سربراہ اور نہ ہی حکومتی مشینری کی جانب سے مل سکا ہے کہ پاکستان سافٹویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) کے ساتھ رجسٹرڈ 1500 سے زائد کال سینٹر سیکٹر میں ملازمت پیشہ دس لاکھ سے زائد نوجوانوں کے روزگار کا مستقبل کیا ہو گا؟
سائبر فراڈ ایک حقیقی مسئلہ ہے اور کوئی ذی شعور شخص اس کی آڑ میں شہریوں کو لوٹنے والوں کی حمایت نہیں کر سکتا۔ مگر کیا ہر کال سینٹر مجرم ہے؟ وہ کال سینٹر جس نے خود کو حکومت کی بیان کردہ گائڈ لائنز کے مطابق رجسٹر کیا وہ بھی این سی سی آئ اے کی نظر میں مجرم کیوں ہیں؟ ملک میں لاکھوں نوجوان بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے کسٹمر سپورٹ، ٹیلی مارکیٹنگ اور ڈیٹا انٹری جیسے جائز کام بھی کرتے ہیں، جن سے ملک کو زرمبادلہ ملتا ہے۔ وطن عزیز کے بے بس و بے کس عام نوجوانوں کی شکایت یہ ہے کہ چھاپوں میں جائز اور ناجائز کی تمیز مٹا دی گئی ہے۔ رات گئے دفاتر پر دھاوا بولاجاتا ہے، کمپیوٹر، لیپ ٹاپس، نوجوانوں کے پرسنل موبائل فون اور پرسنل دستاویزات تو قبضے میں لے ہی لی جاتی ہیں لیکن اس سے بڑا المیہ یہ ہو رہا ہے کہ ہزاروں مرد و خواتین کی تخصیص ختم کرکے نوجوانوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر کے گرفتار کر لیا جاتا ہے اور پھر اس سے بھی بڑا ظلم یہ کیا جا رہا ہے کہ ان تمام پڑھے لکھے نوجوانوں کی ویڈیوز مجرم بنا کر وائرل کی جا رہی ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو محض ماہانہ تنخواہ پر نوکری کرتے ہیں اور جنہیں اپنے آجر کے کاروبار کی نوعیت کا علم تک نہ ہوتا ہے۔ ایک عام ملازم اور فراڈ کے ماسٹر مائنڈ کو ایک ہی پلڑے میں رکھنا نہ انصاف ہے، نہ تفتیش کا مہذب طریقہ، اور نہ ہی انسانی حقوق کی پاسداری کرتا مناسب رویہ۔
دوسرا اہم سوال طریقۂ کار کا ہے۔ آئینِ پاکستان ہر شہری کو گرفتاری کے وقت وجوہات جاننے، وکیل سے رابطے اور چوبیس گھنٹے کے اندر عدالت میں پیشی کا حق دیتا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ کئی روز تک انہیں یہ تک نہ بتایا گیا کہ ان کے بچے کہاں ہیں۔ یہ حقائق محض بدانتظامی نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا مسلسل عمل بھی ہے۔ مزید یہ کہ برآمد شدہ آلات کی فرانزک جانچ سے پہلے ہی گرفتاریوں اور میڈیا میں “بڑی کامیابی” کے اعلانات سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مقصد تفتیش سے زیادہ کارکردگی کی نمائش تھا۔
اس کارروائی کا معاشی پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرف حکومت آئی ٹی برآمدات بڑھانےکے دعوے کرتی ہے، خطیر زر مبادلہ کمانا چاہتی ہے اور ایسے ماحول کی دعویدار ہے جس میں کاروبار آسان بنایا جانے کا عندیہ سناتی ہے، دوسری طرف اسی شعبے کے نوجوانوں کو خوف کی فضا اور جرم کی دنیا میں دھکیل دیا گیا ہے۔ کئی جائز کمپنیوں نے احتیاطاً دفاتر بند کرنے شروع کر دیے ہیں اور نوجوان ملازمین کو فارغ کر کے کاروبار بیرون ملک منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ بیرونی کلائنٹس جب یہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں کام کرنے والے ملازمین راتوں رات گرفتار ہو سکتے ہیں تو وہ اپنا کام بھارت، فلپائن یا بنگلہ دیش منتقل کر دیتے ہیں۔ نقصان ان چند افراد کا نہیں، پوری صنعت اور ملک کی ساکھ کا ہو رہا ہے۔
اب ذرا ان گھروں کی طرف آئیے جہاں اس کارروائی کے بعد صفِ ماتم بچھ چکی ہے۔ کسی گھر میں بوڑھا باپ ہے جس نے بیٹے کی تعلیم کے لیے عمر بھر کی جمع پونجی لگائی، اور اب وہ وکیلوں کی فیسیں اور عدالتوں کے چکروں میں رُل رہا ہے۔ کسی گھر میں ماں ہے جو دروازے پر نگاہیں جمائے بیٹھی ہے اور جس کے لبوں پر صرف ایک ہی فریاد ہے۔ کہیں نوبیاہتا دلہن ہے جس کی مہندی کا رنگ ابھی پھیکا نہیں پڑا کہ شوہر حوالات میں ہے۔ ایسے ہی خاندانوں کے دلوں سے وہ آہیں اٹھ رہی ہیں جو بلند ایوانوں تک شاید نہ پہنچیں مگر فضا میں ضرور تیرتی پھر رہی ہیں۔
ان خاندانوں کی زبانوں پر ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے علی ناصر رضوی کے رویے کے لیے شکوے بھی ہیں اور بددعائیں بھی۔ ایک ماں، جس کا اکلوتا بیٹا حسیب کئی دن سے حوالات میں ہے، دوپٹے کا پلو آنکھوں سے لگائے روتے ہوئے کہا کہ “جس نے میرے گھر کا چراغ بجھایا، اللہ اس کے گھر کا سکون چھین لے۔ جس طرح میں اپنے بیٹے کی ایک جھلک کو ترس رہی ہوں، اسے بھی اپنی اولاد کے لیے در در بھٹکنا پڑے۔” ایک بوڑھا باپ، جس نے ریٹائرمنٹ کی ساری جمع پونجی وکیلوں کی فیسوں میں جھونک دی، نے شکستہ لہجے میں کہا کہ “ہم نے تو بیٹوں کو پڑھایا تھا کہ عزت کی روٹی کمائیں۔ جس نے انہیں مجرموں کی طرح گھسیٹا، اللہ اسے بھی ایسی ہی رسوائی اور بے بسی دکھائے، اور ہمارے بچوں کی آہ اسے رات کو چین سے سونے نہ دے۔”
ایک نوبیاہتا دلہن، جس کے ہاتھوں کی مہندی ابھی پوری طرح اتری بھی نہیں تھی اور اپنے شوہر سے ملاقات کے لیے عدالت کے بینچ پر بیٹھی نمناک آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا کہ “جس نے میرا سہاگ مجھ سے چھین کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ناحق قید کیا ہے، اللہ کرے اس کی کوئی خوشی بھی مکمل نہ ہو۔ جیسے میں عدالت دروازے پر بیٹھ کر انتظار کر رہی ہوں، ویسا ہی انتظار اسے بھی دیکھنا پڑے۔” ایک بہن، جس کا بھائی گھر کا واحد کفیل ہے، نے کہا کہ “ہم کس سے فریاد کریں، ہمارے لیے تو بس اوپر والا ہی رہ گیا ہے۔ جس کے حکم پر ہمارا بھائی ہتھکڑیوں میں ابھی آپکے سامنے گیا ہے، ان کے دسترخوان سے بھی برکت اٹھ جائے اور ان کے اپنے گھر میں بھی کوئی ایسی ہی رات اترے جیسی ہمارے گھر پر اتری ہے۔” ایک عمر رسیدہ خاتون جو کال سینٹر میں ریڈ کے دوران گرفتار کیے گئے ایم فل پاس اور پی ایچ ڈی کے طالب علم رضوان کی عمر رسیدہ دادی تھیں اور جو لرزتے ہاتھوں میں تسبیح تھامے عدالت کی راہداری میں ایک پلر کے ساتھ ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی بے بسی کی تصویر تھیں نے سوال کرنے پر کہا کہ “یا اللہ، تُو مظلوم کی آہ سنتا ہے۔ جس نے میرے پوتے کو بے قصور قید کروایا، اس سے حساب تُو ہی لے۔”
یہ جملے کسی نفرت کے اظہار سے زیادہ بے بسی کی وہ آخری پناہ ہیں جو کمزور کے پاس اس وقت رہ جاتی ہے جب قانون کے دروازے بند اور عدالتیں دور دکھائی دیں۔ ہماری روایت میں مظلوم کی آہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کے اور عرشِ الٰہی کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا، اور اسی لیے صاحبانِ اختیار کو ایسی آہوں سے ڈرنا چاہیے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ بددعائیں کسی ادارے کی پالیسی بدل سکتی ہیں، مگر جب ایک ایک گھر سے یہی صدا اٹھنے لگے تو یہ محض جذباتی ردِعمل نہیں رہتی، اجتماعی عدم اعتماد کا اعلان بن جاتی ہے۔اور جہاں بددعائیں دینے والے دس لاکھ سے زائد گھرانے ہوں جنکا روزگار چھیننے کی تیاری جاری ہو، ہزاروں ایسے ہوں جنہیں ناکردہ جرم کی سزا دی جا رہی ہو اور سینکڑوں روزانہ بغیر جرم کے قید میں ڈالے جا رہے ہوں ان غریب و مسکین عام پاکستانیوں کی بددعائیں عرش ہلانے کے لیے بہت کافی ہیں۔ پروردگار عالم تو ایک غریب و مسکین کی آہ پر زندگیاں الٹ پلٹ کر دیتا ہے، یہاں تو لاکھوں بدعائیں مسلسل جاری ہیں اور اسی لیے صاحبانِ اختیار و اقتدار کو ایسی آہوں سے ڈرنا چاہیے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ بددعائیں کسی ادارے کی پالیسی بدلنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ مگر جب ایک ایک گھر سے یہی صدا اٹھنے لگے تو یہ محض جذباتی ردِعمل نہیں رہتی، ایک اجتماعی عدم اعتماد کا اعلان بن جاتی ہے۔ اور جس ادارے پر عوام کا اعتماد اٹھ جائے، اس کی کوئی کارروائی، چاہے کتنی ہی ضروری ہو، مؤثر نہیں رہتی۔اصلاح کاراستہ ابھی کھلاہے۔ ڈی جی این سی سی آئی اے علی ناصر رضوی کو چاہیے کہ گرفتار شدگان کی فہرست اور ان پر عائد الزامات شفاف انداز میں سامنے لائے جائیں، جن کے خلاف ٹھوس شواہد نہیں انہیں فوری رہا کرے، اور آئندہ کارروائیوں کے لیے واضح ضابطۂ کار بنائے جس میں اصل ملزمان اور عام ملازمین کے درمیان فرق رکھا جائے۔ وفاقی وزیر وزیر داخلہ محسن نقوی اور پارلیمان کی متعلقہ کمیٹیوں کو بھی اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔ سائبر کرائم کے خلاف جنگ ضرور لڑی جائے، مگر ایسی جنگ جو مجرم کو پکڑے، بے گناہ کو نہ کچلے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جو طاقت ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی آہوں، سسکیوں، بدعاؤں پر جبراً کھڑی ہو، اس کی بنیادیں خود ہی کمزور ہو جاتی ہیں۔
ادارہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔





