تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی و گورنر راج اسوقت ہر گفتگو کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اسی تناظر میں سوات کا مرکزی شہر مینگورہ بھی پاکستانی سیاست کی ایک دلچسپ تصویر پیش کر رہا ہے۔ چند روز پہلے اسی جگہ رہنما پاکستان تحریکِ انصاف اور صوبہ خیبر پختونخوا کے معزول وزیراعلی سہیل آفریدی نے جلسہ عام کیا اور ہجوم کی صورت میں بھرپور عوامی قوت کا مظاہرہ کیا۔ آج اسی جگہ مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر اور وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی قیادت میں جلسہ ہوا اور اسے بھی کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں جماعتوں کے کارکن اپنے اپنے جلسے کی تصاویر اور ویڈیوز سماجی ذرائع ابلاغ پر پھیلا رہے ہیں اور ہر فریق یہ ثابت کرنے پر تلا ہے کہ عوام اسکے ساتھ ہیں۔ بظاہر ایک ہی جگہ پر دو متضاد دعوے ایک ساتھ سچ نہیں ہو سکتے، اور یہی آج کی تحریر کا بنیادی سوال ہے کہ سیاسی مقبولیت کا اصل پیمانہ آخر کیا ہے۔
سچ یہ ہے کہ جلسے کا میدان کسی جماعت کی تنظیمی صلاحیت، وسائل، کارکنوں کی لگن اور رہنماؤں کی کشش کا اظہار ضرور ہے، لیکن نہ تو قوم کا اجتماعی فیصلہ ہے اور نہ ہی درست انداز میں حق فیصلہ سازی فراہم کرتا ہے۔ جلسے میں وہی لوگ آتے ہیں جو پہلے سے کسی جماعت کے حامی ہوں، یا جنہیں لایا جائے، یا جو تماشائی کی حیثیت سے شریک ہوں۔ جو لوگ گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں، جو دکانوں اور کھیتوں میں مصروف ہیں، جو کسی جماعت کے مخالف ہیں یا کسی کے بھی حامی نہیں، ان کی رائے ہجوم کی گنتی میں شامل ہی نہیں ہوتی۔ اس لیے کسی جلسے کی بھیڑ کو پورے علاقہ، پورے صوبے، یا پورے ملک کی رائے سمجھ لینا خود فریبی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اگر ایک ہی میدان دو مختلف جماعتوں کے لیے بھر سکتا ہے تو یہ جمہوریت کی صحت کی دلیل ہے کہ سیاسی سرگرمی زندہ ہے، مگر یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ کس کے پاس کتنے ووٹ ہیں اور کس کا موقف عوام میں زیادہ مقبول ہے۔
اس مقام پر یورپ کی تاریخ کا ایک واقعہ ہماری رہنمائی کر سکتا ہے۔ جرمنی کی ویمار جمہوریہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد قائم ہوئی تھی اور 1930 کی دہائی کے آغاز میں شدید معاشی بحران اور سیاسی انتشار کا شکار تھی۔ ان برسوں میں سڑکیں جلسوں، جلوسوں اور وردی پوش دستوں کی پریڈ سے گونجتی رہتی تھیں۔ جرمنی میں اس سال دو مرتبہ انتخابات ہوئے۔ نیشنل سوشلسٹ پارٹی نے جولائی 1932 کے انتخابات میں تقریباً سینتیس فیصد ووٹ لے کر ریخستاگ کی سب سے بڑی جماعت کی حیثیت حاصل کی، مگر اسے کبھی آزادانہ انتخابات میں اکثریت نہیں ملی۔ نومبر 1932 کے انتخابات میں اس کے ووٹ گھٹ کر تینتیس فیصد کے قریب رہ گئے، یعنی جس تحریک کے جلوسوں کی گونج سب سے زیادہ تھی، ووٹ کے پیمانے پر وہ کمزور پڑ رہی تھی۔ مگر اسی دوران پس پردہ سیاسی جوڑ توڑ ہوا اور صدر ہنڈنبرگ نے اپنے مشیروں کے دباؤ پر جنوری 1933 میں ہٹلر کو چانسلر مقرر کر دیا۔ یہ تقرری عوامی اکثریت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایوانِ اقتدار کے اندر ہونے والے سودوں کا ماحاصل تھی۔
اس کے بعد ریخستاگ میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا، ہنگامی احکامات کے ذریعے شہری آزادیاں معطل کی گئیں، اور مارچ 1933 میں ایوان نے ایک قانون منظور کیا جو اختیارات کے ارتکاز کا دروازہ بن گیا۔ اس قانون کے حق میں چار سو چوالیس اور مخالفت میں چورانوے ووٹ آئے، اور مخالفت کرنے والوں میں صرف سوشل ڈیموکریٹ ارکان شامل تھے۔ پارلیمان نے اپنے ہی اختیارات اپنے ہاتھوں سے دے دیے۔
یہاں واضح کر دوں کہ یہ تاریخی حوالہ کسی موجودہ پاکستانی جماعت کوکسی دوسری سے تشبیہ دینے کے لیے نہیں ہے۔ مقصد یہ سبق اجاگر کرنا ہے کہ جب فیصلے ووٹ اور پارلیمانی عمل کے بجائے سڑک کے دباؤ، ہجوم کے زور اور پس پردہ سودے بازی سے ہونے لگیں تو جمہوری ادارے اندر سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ ویمار کا المیہ یہ نہیں تھا کہ وہاں جلسے ہوتے تھے، بلکہ یہ تھا کہ پارلیمان فیصلہ سازی کا مرکز نہ رہی، سیاسی قوتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مکالمے کے بجائے ٹکراؤ کو ترجیح دی، اور آخرکار ادارے اتنے کمزور ہو گئے کہ وہ اپنا دفاع بھی نہ کر سکے۔
اب آئیے اپنے حالات کی طرف۔ سوات وہ وادی ہے جس نے دہشت گردی کا زخم سب سے گہرا سہا ہے۔ سن 2007 سے 2009 تک یہاں دہشتگردوں کا قبضہ رہا، اسکول جلائے گئے، لوگ ہجرت پر مجبور ہوئے، اور ریاست کو فوجی آپریشن کر کے امن بحال کرنا پڑا۔ بعد کے برسوں میں بھی وقتاً فوقتاً سر اٹھانے والے خطرات نے مقامی آبادی کو بارہا احتجاج پر مجبور کیا کہ انہیں دوبارہ اس دور کی طرف نہ دھکیلا جائے۔ آج بھی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اہلکار اور شہری قربانیاں دے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ بندوق سے زیادہ قومی یکجہتی کی جنگ ہے۔ اس میں فتح اس وقت ممکن ہے جب ریاست، حکومت، اپوزیشن اور عوام ایک سمت میں کھڑے ہوں۔ جب سیاسی قیادت جلسوں کے مقابلے میں الجھی ہو، ایک دوسرے کی حب الوطنی پر سوال اٹھا رہی ہو اور پارلیمان میں سنجیدہ مکالمے کے بجائے الزام تراشی کا ماحول ہو تو اس کا فائدہ ان عناصر کو پہنچتا ہے جو ریاست کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔
ہمارے رہنماؤں میں ایک عام روش یہ ہے کہ وہ عوامی مقبولیت کا حوالہ دے کر اپنے فیصلوں کا جواز تراشتے ہیں۔ حکومت اپنے جلسوں اور اپنے ترقیاتی منصوبوں کو عوامی تائید کی دلیل بناتی ہے اور اپوزیشن اپنی عوامی مقبولیت اور جلسوں کو۔ ہر فریق اپنے مجمع کو عوام کا اصل چہرہ قرار دیتا ہے اور مخالف کے مجمع کو سرکاری وسائل یا جماعتی اثر کا نتیجہ کہہ کر رد کر دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی فیصلے پر قومی اتفاق ممکن نہیں رہتا، کیونکہ دونوں طرف کی دلیل ایک ہی ہے اور دونوں غلط بھی نہیں اور صحیح بھی نہیں۔ اس تنازع کا واحد معتبر حل وہی ہے جو آئین نے طے کیا ہے، یعنی انتخابات۔ ووٹ کی پرچی ہر شہری کو برابر وزن دیتی ہے، چاہے وہ جلسے میں جائے یا نہ جائے، نعرے لگائے یا خاموش رہے۔ یہی خاموش اکثریت اصل عوامی رائے ہے، اور اسے سننے کا واحد ذریعہ شفاف انتخابات ہیں۔
اس سے آگے یہ بھی ضروری ہے کہ فیصلے اسی جگہ ہوں جہاں عوام کے منتخب نمائندے بیٹھتے ہیں۔ پارلیمان محض قانون سازی کا ادارہ نہیں بلکہ وہ فورم ہے جہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنا مؤقف دلیل کے ساتھ رکھنا ہوتا ہے اور اختلاف کو ٹکراؤ بنائے بغیر حل کرنا ہوتا ہے۔ جب اپوزیشن ایوان کی اہمیت کو ترک کر کے سڑک کا راستہ اختیار کرتی ہے، یا حکومت قانون سازی بغیر مشاورت کے دباؤ کے ذریعے کرواتی ہے، تو دونوں صورتوں میں نقصان ادارے کا ہوتا ہے۔ سڑک پر کیے گئے فیصلے وقتی ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے کوئی آئینی ضمانت نہیں ہوتی، جبکہ پارلیمان کے فیصلے ریاست کی تاریخ اور عدالتی نظیر کا حصہ بنتے ہیں۔
آخری اور سب سے اہم بات انتخابی عمل کی شفافیت ہے۔ کوئی بھی ووٹ تبھی معتبر ہے جب اس کی گنتی، نتائج کی ترسیل، حلقہ بندیوں اور الیکشن کمیشن جیسے اداروں کی غیر جانبداری پر عوام کو اعتماد ہو۔ اگر ہارنے والا فریق نتیجے کو دل سے تسلیم نہ کرے تو سیاسی بحران ختم نہیں ہوتا بلکہ ہر انتخاب کے بعد نئی شکل میں لوٹ آتا ہے۔ شفاف انتخابات صرف اپوزیشن کا مطالبہ نہیں، حکومت کے لیے بھی سب سے مضبوط سند ہیں، کیونکہ جس اقتدار کی بنیاد صاف و شفاف ووٹ پر ہو اسے ہر جلسے کے جواب میں جلسہ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ انتخابی اصلاحات پر حکومت اور اپوزیشن مل کر پارلیمان میں بات کریں، اور ایسا ضابطہ طے کریں جسے سب فریق آئندہ انتخابات سے پہلے تسلیم کر لیں۔
مینگورہ یا ملتان یا ملک کا کوئی اور شہر، جلسے جمہوریت کا حسن ہیں اور ہر جماعت کو پُرامن اجتماع کا آئینی حق حاصل ہے۔لیکن ان اجتماعات کو عوامی فیصلے کا متبادل سمجھ لینا خطرناک غلطی ہے۔ قوم کو آج ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ہجوم کی گونج میں بہنے کے بجائے ووٹ کی طاقت پر بھروسا کرے، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی یکجہتی کو ترجیح دے، اور جو پارلیمان کو وہ مقام لوٹائے جو آئین نے اسے دیا ہے۔ حقیقی نمائندگی، شفاف عمل اور پارلیمانی بالادستی ہی وہ مشعلِ راہ ہیں جو ہمیں ماضی کی تلخ تجربات کی تکرار سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔






